1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’اسلامک اسٹیٹ‘ نے پیرس حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی

شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے تسلیم کیا ہے کہ پیرس حملے شام اور عراق میں مغربی کارروائی کا رد عمل تھے۔صدر اولانڈ نے بھی پیرس حملوں کی ذمہ داری جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ پر عائد کی ہے۔

جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش نے آج ہفتے کے روز گزشتہ شب پریس میں کیے گئے متعدد دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ شام اور عراق میں فرانس اور مغربی ممالک کی جانب سے اس کے ٹھکانوں پر حملوں کا جواب تھے۔

قبل ازیں فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے جمعےکی شام ملکی دارالحکومت پریس کے مختلف علاقوں میں کیے گئے دہشت گردانہ حملوں کو فرانس کے خلاف جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی جنگی کارروائی قرار دیا ہے۔ اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس شدت پسند اسلامی تنظیم نے ایک آزاد ملک پر حملہ کیا ہے اور انہیں اِس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ یہ امر اہم ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد فرانس پر کیے گئے یہ سب سے خوفناک دہشت گردانہ حملے ہیں۔

فرانسوا اولانڈ نے اِن خیالات کا اظہار سکیورٹی سے متعلق ایک ایمرجنسی میٹنگ کے بعد کیا۔ فرانس بھر میں سکیورٹی کو انتہائی چوکس کر دیا گیا ہے۔ فرانسیسی صدر نے ’اسلامک اسٹیٹ‘ کو دہشت گرد فوج قرار دیا ہے۔ اُنہوں نے تین روزہ سوگ کا بھی اعلان کیا۔

Frankreich Terror in Paris Hollande im Elysee Palast

فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ

اُدھر پیرس کے دفتر استغاثہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اِس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ جمعے کے روز کیے گئے حملوں کے شریک افراد فرانس ہی میں راہِ فرار اختیار کیے ہوئے ہوں۔

گزشتہ رات پیرس کے سات مختلف علاقوں پر ہوئے حملوں میں 128 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی گئی ہے۔ ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے کیوں کہ کئی اور زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی ہے۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ پیرس حملوں میں شریک افراد پر ابھی تک پراسراریت چھائی ہوئی ہے کہ یہ کون تھے اور کہاں سے آئے تھے۔ دریں اثنا فرانس کی انسدادِ دہشت گردی کی پولیس مشتبہ افراد کے کوائف جمع کرنے کی کوشش میں ہے۔

شام اور عراق میں فعال سنی انتہا پسند گروہ داعش کی طرف سے جاری کردہ ایک تازہ پیغام میں مسلمانوں کو اکسایا گیا تھا کہ وہ فرانس میں حملے کریں۔ ہفتے کے دن جاری کیے گئے اس ویڈیو پیغام میں کہا گیا ہےکہ اگر وہ ’جہاد‘ میں شرکت کے لیے شام کا سفر نہیں کر سکتے تو وہ فرانس میں ہی حملے شروع کر دیں۔