1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’اسلامک اسٹیٹ‘ سے جنگ، عراق میں دشمنوں کی قربت کی وجہ

’اسلامک اسٹیٹ‘ کے قبضے سے حال ہی میں آزاد کرائے گئے عراقی قصبے میں تناؤ کی صورت حال عراق کو ایک نئے تنازعے کی سمت لے جا سکتی ہے۔

کنکریٹ سے بنی ایک عمارت کے عین سامنے نصب ایک لاوڈ اسپیکر سے ابھرتے مذہبی ترانوں کی گونج عراق کے ایک چھوٹے سے قصبے کی مرکزی گلی میں دور تک پھیل رہی ہے۔ بشیر نامی یہ چھوٹا قصبہ رفتہ رفتہ اپنی قوت کھوتی "دولت اسلامیہ" کے خلاف حالیہ فتح کا علاقہ ہے۔

جھنڈوں سے ڈھکی،گیلے پلاسٹر پر کھینچی گئی لکیروں کے آرٹ سے اور گولیوں کے سوراخوں سے مزین۔

عمارت بیک وقت مختلف مقاصد کے لیے کمیونٹی ہال کا کام دے رہی ہے ،جہاں شیعہ جنگجوؤں کو جنہوں نے چند روز قبل ہی 'اسلامک اسٹیٹ' سے اس قصبے کا کنٹرول چھینا ہے، سادہ کھانا اور چائے فراہم کی جاتی ہے۔

مقامی ترکمان جنگجو کمانڈر محمد جعفر، جس نے اس قصبے کی آزادی کی لڑائی میں حصہ لیا تھا، ڈوئچے ویلے سے بات کرتے ہوئے بتایا۔’’اب قبضہ ہمارے پاس ہے۔اور یہ سب سے اہم بات ہے۔‘‘

محمد جعفر، ان بہت سے مقامی ترکمان باشندوں میں سے ایک تھا، جو 16 جون 2014 کو اس وقت علاقہ چھوڑ گئے تھے، جب اسلامک اسٹیٹ نے یہاں قبضہ کر لیا تھا۔ وہ مقامی آبادی کے اس گروپ کا حصہ تھا جس نے 2 ہفتے قبل یہاں قابض گروہ پر حملہ کیا لیکن جواب میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

قریب 300 مقامی ملیشیا افراد کو کمانڈ کرتے ہوئے محمد جعفر، کرد پیش مرگہ جنگجوؤں اور جنوبی عراق کے ایک شیعہ میلشیا گروپ کی مدد سے ،کئی دن کی لڑائی کے بعد بلآخر یکم مئی کو بشیر قصبے کا کنٹرول واپس لینے میں کامیاب ہو گئے۔

’اسلامک اسٹیٹ‘ اب بھی ساتھ کے قصبوں پر قابض ہے اور بشیر میں گاہے بگاہے مارٹر حملوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں لیکن گاؤں پر اب ترکمانوں کا قبضہ ہے، جس سے وہ دو سال پہلے محروم ہو گئے تھے۔

ترکمانوں کو اب اپنے گھروں کی تعمیر نو اور عراق کے بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے میں اپنے مقام کے تعین جیسے چیلنجز در پیش ہیں۔

2014 میں شمالی عراق میں اسلامک اسٹیٹ کی فتح نے وہاں موجود نسلی اور مذہبی کمیونیٹیز میں اندر ہی اندر غصہ کی کیفیت کو جنم دیا۔عراقی فوج کے تحلیل ہونے کے بعد کردوں نے فوری طور پر تیل کی دولت سے مالا مال شہر'کرکوک' کا کنٹرول سنبھال لیا،جو بشیر قصبے سے صرف آدھ گھنٹے کی مسافت پر ہے۔

تب سے پیش مرگہ فورسز نے کرکوک شہر سے اسلامک سٹیٹ کو پیچھے دھکیلتے ہوئے زیادہ تر علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔دوسری جانب سنی انتہا پسند پسپائی اختیار کر رہے ہیں لیکن وہ مستقبل کے تنازعات کے بیج بو چکے ہیں۔

کرکوک، نسلی اعتبار سے متنوع ہے ۔یہاں عرب کرد اور بڑی تعداد میں ترکمان باشندے آباد ہیں۔

کرکوک اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں رہائش پذیر ترکمان شیعہ مسلمان ہیں اور سنی کردوں پر اعتبار نہیں کرتے۔اور بہت سوں کا جھکاؤ بغداد میں شیعہ اکثریتی حکومت کی طرف ہے۔

عراقی فوج کے خاتمے کے بعد،حشد الشبیہ نامی شیعہ ملیشیا گروپ نے اسلامک اسٹیٹ کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے اور ہزاروں کی تعداد میں ترکمان حشد کے ساتھ منسلک ہو گئے۔

لیکن یہ اتحاد زیادہ مضبوط نہیں۔بشیر پر قبضے سے صرف ایک ہفتہ قبل، مقامی ترکمانوں اور اتحادی حشدالشبیہ کی جھڑپ پیش مرگہ اور توز خورماتو جو کرکوک کے قریب واقع ہے، کے رہائشیوں سے ہوئی۔

اور اس تناؤ کے سبب لڑائی کئی دن تک جاری رہی۔ بشیر میں مشترکہ دشمن اسلامک اسٹیٹ کا آس پاس ہونا اور پیش مرگہ کی عدم موجودگی اب ایسی جھڑپوں کے نہ ہونے کی بڑی وجہ ہے۔

DW.COM