1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسقاط حمل پر نئی پابندیاں، ویت نام میں عوام سراپا احتجاج

ویت نام میں اسقاط حمل سے متعلق نسبتاﹰ نرم قوانین کو سخت بنانے کے منصوبے پر عوام سراپا احتجاج ہیں۔ طبی حکام اور عوام کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں سےجنسی زیادتی کی شکار خواتین کی زندگی اجیرن ہو جائے گی۔

ویت نام میں اس وقت 22 ہفتے کے حمل کے اسقاط کی اجازت ہے تاہم نئے مسودہ قانون کے تحت اب حمل ٹھہرنے کے 12 ہفتوں کے بعد اسقاط کی اجازت نہیں ہو گی، تاہم اس سلسلے میں چھوٹ یہ رکھی گئی ہے کہ یہ قانون جنسی زیادتی، قریبی رشتہ داروں کے درمیان جنسی تعلق اور ماں کی صحت کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں لاگو نہیں ہو گا۔

تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اس قانون کی صورت میں غیرقانونی اسقاط حمل کا رجحان بڑھے گا اور بلیک مارکیٹ پیسے بنائے گی۔

ویت نام کے عوامی دفتر برائے آبادی اور خاندانی منصوبہ بندی کے ایک عہدیدار کے حوالے سے مقامی میڈیا کا کہنا ہے، ’’حاملہ خواتین، جو اس قانون کی وجہ سے پابندی کا شکار ہو جائیں گی، وہ اس مقصد کے لیے غیرقانونی راستے اپنائیں گی، جہاں حفظان صحت اور مہارت کی سطح کے حوالے سے یقین سے کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔‘‘

ایک اور عہدیدار کا کہنا ہے کہ اسقاط حمل کے لیے جنسی زیادتی کی متاثرہ خاتون کو ’ریپ‘ ثابت کرنا ہو گا، جو ایسی کسی خاتون کی دل آزاری کا باعث ہو گا جب کہ بعض صورتوں میں یہ ثابت کرنا ممکن بھی نہیں ہو گا۔

ایک آن لائن اخبار پر اس خبر پر مقامی افراد کے تبصروں میں سے ایک یہ بھی تھا، ’’جنسی زیادتی کا شکار ہونا، پہلے ہی ایک حساس اور معاشرتی سطح پر قابل شرم واقعہ ہے اور ایسے میں متاثرین اسے خفیہ نہیں رکھ سکیں گے۔‘‘

نیے قانون کے تحت کسی خاتون کو 12 ہفتوں کے بعد بھی اسقاط حمل کی اجازت کے لیے عدالت سے رجوع کرنا ہو گا اور وہاں اسے عدالت یہ سند دے گی کہ وہ خاتون واقعی جنسی زیادتی کا شکار ہوئی ہے۔

ایک اور شخص کے مطابق، ’’یہ پورا عمل وقت کا تقاضا کرتا ہے اور اسقاط حمل میں وقت انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، جس میں تاخیر نہیں کی جا سکتی۔‘‘

یہ بات اہم ہے کہ ایشیا میں اسقاط حمل کی سب سے زیادہ شرح ویت نام ہی میں ہے، جب کہ دنیا بھر میں اس حوالے سے اس کا نمبر پانچواں بنتا ہے۔ ویت نام میں اسقاط حمل کی شرح اوسط دو اعشاریہ پانچ فی خاتون ہے۔