1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیل یہودی بستیوں کا قیام روکے: چہار فریقی گروپ برائے مشرقِ وسطیٰ

اٹلی میں ہونے والے جی ایٹ وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر مشرقِ وسطیٰ تنازعے کے حل کے لیے چہار فریقی گروپ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غربِ اردن میں یہودی بستیوں کی تعمیر فوری طور پر روک دے۔

default

چہار فریقی گروپ کے سربراہ اور سابق برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کے حل کے لیے دو ریاستوں کا قیام ممکن ہے

Italien G8 Treffen in L' Aquila Silvio Berlusconi

جی ایٹ وزرائے خارجہ کا اجلاس اٹلی میں جاری ہے

واضح رہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کے حل کے لیے چار فریقوں پر مشتمل گروپ میں اقوامِ متحدہ، امریکہ، روس اور یورپی یونین شامل ہیں۔

چہار فریقی گروپ کے سربراہ اور سابق برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کے حل کے لیے دو ریاستوں کا قیام ممکن ہے اگر اسرائیل غربِ اردن میں مزید یہودی بستیوں کے قیام کے حوالے سے لچک کا مظاہرہ کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ نو منتخب اسرائیلی وزیراعظم بینیامن نیتن یاہو داخلی طور پر اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ مسئلے کے حل کے لیے کردار ادا کر سکیں۔

جمعہ کے روز اٹلی میں ہونے والے جی ایٹ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر اس چہار فریقی گروپ کی جانب سے ایک بیان جاری کیا گیا جس میں اسرائیل سے مغربی پٹّی میں مزید آبادیوں کے قیام کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔ امریکی صدر باراک اوباما پہلے ہی اسرائیلی حکومت سے یہ مطالبہ کر چکے ہیں تاہم اسرائیلی حکومت کا موقف ہے کہ غربِ اردن میں ’قدرتی‘ طور پر آباد ہونے والی بستیوں کو روکا نہیں جائے گا۔

Benjamin Netanjahu spricht auf einer Wahlkampfveranstaltung in Tel Aviv

ٹونی بلیئر کے مطابق نو منتخب اسرائیلی وزیرِ اعظم نین یاہو کے پاس موقع ہے کہ وہ فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کر سکیں

مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی امریکی مندوب جارج مچل نے امید ظاہر کی ہے کہ فلسطین کے مسئلے پر مذاکرات کا جلد آغاز ممکن ہے۔

روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف کا کہنا ہے کہ روس اس مسئلے پر امن مذاکرات کا مکمل اور جلد آغاز فوری طور پر چاہتا ہے۔ واضح رہے کہ روس مشرقِ وسطیٰ تنازعے کے حل کے حوالے سے رواں برس ایک کانفرنس کا انعقاد بھی کرنا چاہتا ہے۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کا کہنا ہے کہ امریکہ میں باراک اوباما کی انتظامیہ کی موجودگی میں انہں مشرقِ وسطیٰ تنازعے کے حل کی قوی امید ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے لیے چہار فریقی گروپ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعے کا واحد حل 1967 کی جنگ کے بعد فتح کیے گئے علاقوں پر سے اسرائیل کا قبضہ ختم کرنا اور اسرائیل اور فلسطین کے عوام کے لیے خود مختار ریاستوں کا قیام ہے۔ بیان میں فلسطین سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرتے ہوئے پرتشدّد کارروائیاں ترک کردے۔ بیان میں بین الاقوامی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ فلسطین کی معیشت کے استحکام کے لیے معاونت کرے۔

جمعہ کے روز اطالوی وزیرِ خارجہ فرانکو فراتینی نے کہا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے پر یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

DW.COM