1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینی عمارات کی ’خوفناک شرح سے تباہی‘

اسرائیل فلسطینیوں کے گھر اور بین الاقوامی امداد سے تعمیر کی جانے والی دیگر عمارات کو ’خوفناک شرح سے‘ تباہ کر رہا ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کی طرف سے کہی گئی ہے۔ رواں برس اب تک گزشتہ برس سے زائد عمارات گرائی جا چکی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ یکم جنوری سے دو مارچ تک مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے میں 121 ایسی عمارات کو گرا دیا گیا جو مکمل یا جزوی طور پر بین الاقوامی امدادی ایجنسیوں کی فنڈنگ سے تعمیر کی گئی تھیں۔ ان اعداد وشمار کے مطابق 2015ء کے دوران اس طرح کی منہدم کر دی گئی عمارات کی تعداد 108 تھی۔

اسرائیل کی طرف سے جن منصوبوں کو تباہ کیا گیا ہے، ان میں فلسطینیوں کے گھر اور کم از کم ایک اسکول بھی شامل ہے، اس کے علاوہ ایسی عارضی عمارات بھی گرا دی گئی ہیں، جن میں جانوروں کے شیڈز وغیرہ شامل ہیں۔

فلسطینی علاقوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہیومینیٹیرین کوآرڈینیٹر رابرٹ پائپر نے اے ایف پی کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے تحریری جواب میں کہا کہ عمارات کی تباہی ’خوفناک‘ ہے۔ پائپر کے مطابق، ’’ہم 2016ء کے صرف پہلے 10 ہفتوں میں ہی انسانی بنیادوں پر فراہم کی جانے والی اشیاء کی تباہی یا ان پر قبضہ کیے جانے کی تعداد کو پچھلے پورے برس کی تعداد کے مقابلے میں پیچھے چھوڑ چکے ہیں ۔۔۔ ہم اسرائیلی حکام کے سامنے ظاہر ہے کہ احتجاج کریں گے۔‘‘

اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے غیر قانونی طور پر تعمیر کیے گئے تھے، اس لیے انہیں گرایا جا سکتا ہے۔ تاہم امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے ضروری اجازت نامے حاصل کرنا تقریباﹰ ناممکن ہے۔

اسرائیل کی طرف سے جن منصوبوں کو تباہ کیا گیا ہے، ان میں فلسطینیوں کے گھر اور کم از کم ایک اسکول بھی شامل ہے

اسرائیل کی طرف سے جن منصوبوں کو تباہ کیا گیا ہے، ان میں فلسطینیوں کے گھر اور کم از کم ایک اسکول بھی شامل ہے

اسرائیل کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت ’جیوئش ہوم‘ کے رکن پارلیمان اور مغربی کنارے کے معاملات پر اسرائیلی پارلیمان کی ذیلی کمیٹی کے سربراہ موٹی یوگیو Moti Yogev کے مطابق عمارات گرائے جانے کی تعداد میں اضافہ ممکنہ طور پر ویسٹ بینک کے علاقے میں قائم کردہ یہودی بستیوں میں تیار کی جانے والی اسرائیلی مصنوعات کی درآمد سے متعلق یورپی یونین کے اقدامات کا رد عمل ہے۔

اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے یوگیو کا کہنا تھا، ’’مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ حکومت کا پختہ نقطہ نظر کسی حد تک یورپ کی طرف سے کیے گئے یکطرفہ اقدامات کا نتیجہ ہے۔‘‘

گزشتہ برس نومبر میں یورپی یونین کی طرف سے رکن ریاستوں کو ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آباد کی گئی یہودی بستیوں میں تیار کی جانے والی اشیاء پر لیبل لگایا جائے۔ اس فیصلے پر اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی طرف سے شدید تنقید کی گئی تھی۔