1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیل کے پاس دو سو جوہری ہتھیار ہیں، لیک ای میل

سابق امریکی وزیرخارجہ کولِن پاؤل کی افشا ہونے والی ایک ای میل کے مطابق اسرائیل کے پاس دو سو جوہری ہتھیار ہیں۔ اس سابق اعلیٰ امریکی عہدیدار کی متعدد لیک ای میلز انٹرنیٹ پر جاری کر دی گئی ہیں۔

default

سابق امریکی وزیر خارجہ کولن پاول

ان ای میلز کی تصدیق کولن پاؤل نے خود بھی کر دی ہے۔ کولن پاؤل کی اس ای میل میں ایران کے ساتھ اس وقت جاری جوہری مذاکرات تھے، جو صدر باراک اوباما کی دورِ حکومت میں مکمل ہوئے اور گزشتہ برس جولائی اس سلسلے میں تہران حکومت اور عالمی طاقتوں کے درمیان معاہدہ طے پایا۔

اس ای میل میں پاؤل نے لکھا، ’’خیر ہے۔ ایرانی اگر ایک جوہری بم بنا بھی لیں، تو وہ اسے استعمال نہیں کر سکیں گے، کیوں کہ تہران کو معلوم ہے کہ اسرائیل کے پاس دو سو ہیں اور ہمارے پاس ہزاروں۔‘‘

لوب لوگ نامی خارجہ پالیسی کے ایک بلاگ کی جانب سے ان ای میلز سے متعلق معلومات جاری کی گئی تھیں۔

اسرائیل جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے NPT کا حصہ نہیں ہے اور اب تک جوہری ہتھیاروں سے متعلق تل ابیب حکومت نے کبھی کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ یعنی تل ابیب حکومت نے اس سلسلے میں ہمیشہ ایک ابہام قائم رکھا ہے کہ آیا اس کے پاس جوہری ہتھیار ہیں یا نہیں۔

یہ الگ بات ہے کہ کہ 1980ء کی دہائی سے لیک ہونے والی متعدد دستاویزات بہ شمول وسل بلوور موردیکائی وانونو یہ واضح کر چکے ہیں کہ اسرائیل کے جنوبی شہر ڈیمونا میں جاری اسرائیلی جوہری پروگرام کے ذریعے تل ابیب حکومت عسکری نوعیت کی حامل جوہری صلاحیت حاصل کر چکی ہے۔

Bildergalerie Angela Merkel Colin Powell Bild9

کولن پاول جرمن چانسلر کے ساتھ، فائل فوٹو

ڈیمونا میں اس جوہری پروگرام کی بنیاد سابق اسرائیلی صدر شمعون پیریز نے رکھی تھی۔ 93 سالہ پیریز اب اسٹروک کے باعث ایک ہسپتال میں زیرعلاج ہیں۔

اسرائیلی کی دفاعی مضبوطی میں امریکا کا ایک کلیدی کردار ہے، جس نے متعدد شعبہ ہائے جات میں اسرائیلی دفاع کو مضبوط بنایا۔ رواں ہفتے ہی امریکا نے اسرائیل کو عسکری شعبے میں امداد کے ایک نئے پروگرام کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت اگلے دس برسوں میں اسرائیل کو 38 ارب ڈالر کی عسکری امداد دی جائے گی۔

ان ای میلز میں پاؤل نے اسرائیل کے اس نکتے کو رد کیا، جس میں اسرائیل کا کہنا تھا کہ اس ڈیل سے قبل تہران جوہری ہتھیار سازی سے صرف ایک برس کے فاصلے پر تھا۔

’’بی بی (بینجمن نیتن یاہو) کو یہ کہنا اچھا لگتا ہے کہ ایران ایک برس کی دوری پر ہے، ہماری انٹیلیجنس ایجنٹس بھی ہر سال یہی کہتے ہیں۔ مگر یہ آسان نہیں ہے۔‘‘

ای میلز میں کولن پاؤل نے ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کو ’تسلی بخش‘ قرار دیا اور اس ڈیل کے لیے ایران کے ساتھ اوباما انتظامیہ کے مذاکرات کی حمایت کی تھی۔ واضح رہے کہ کولن پاؤل سابق صدر جارج ڈبلیو بش کے دورِ حکومت میں سن 2001 تا 2005ء تک امریکی وزیرخارجہ رہے تھے۔