1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیل کے ساتھ فائر بندی معاہدے کی توسیع نہیں ہوگی: حماس

اسرائیل اور حماس تحریک کے درمیان چھ ماہ سے جاری جنگ بندی کے معاہدے کی مدت آج جمعہ کے روز پوری ہو گئی ہے تاہم حماس نے اس میں توسیع نہ کرنے کافیصلہ کیا ہے۔

default

حماس کی جانب سے جنگ بندی معاہدے میں توسیع کو خارج از امکان قراردیا جا چکا ہے۔

اسرائیل کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران فلسطینی عسکریت پسندوں کی طرف سے40 کے قریب راکٹ فائر کئے جا چکے ہیں جبکہ اسرائیل کی جوابی کارروائی میں متعدد افراد زخمی اور ایک شخص کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ حماس کی جانب سے جنگ بندی معاہدے میں توسیع کو خارج از امکان قراردیا جا چکا ہے۔

Palästinensischer Kämpfer

پچھلے ہفتے کے اختتام پر غزہ سے اسرائیلی علاقوں پر تقریبا 30 راکٹ داغے گئے۔

حماس کے عسکری بازو کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حماس باقاعدہ طور پر اس معاہدے کے خاتمے کا اعلان کرتی ہے کیونکہ اس معاہدے کی روح کے مطابق اس پر عمل ممکن نہیں بنایا گیا۔ معاہدے کے خاتمے کے ساتھ ہی حماس اور دیگر عسکریت پسند گروپوں نےکہا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کی جانب سے کسی ممکنہ فوجی کارروائی کے جواب کے لئے تیاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔

Israelischer Panzer

اسرائیلی وزرات خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امن دونوں فریقوں کے حق میں بہتر ہے

حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے طاقت کے استعمال کی کسی بھی کوشش سے ایک بڑی جنگ کے دروازے کھل جائیں گے اور اس کا موثر جواب دیا جائے گا۔ حماس نے الزام لگایا کہ چونکہ اسرائیل نے امن معاہدے کے دوران غزہ کی پٹی کو خوراک اور دیگر اشیائے خوراک کی ترسیل بند کئے رکھی، سو اب کسی بھی صورت اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ آگے نہیں بڑھایا جائے گا۔

George Bush und Mahmoud Abbas in Ramallah

صدر محمود عباس امریکی دارالحکومت واشنگٹن پہنچ گئے ہیں جہاں وہ مدت صدارت مکمل کرنے والے امریکی صدر جورج بُش سے آج الوداعی ملاقات کریں گے۔

اسرائیلی وزرات خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امن دونوں فریقوں کے حق میں بہتر ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ یہ معاہدہ آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ امن معاہدے کے باوجود حماس کی جانب سے اسرائیلی علاقوں پر راکٹ حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اس سےقبل اسرائیلی وزیر اعظم کے ترجمان نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ پچھلے ہفتے کے اختتام پر غزہ سے اسرائیلی علاقوں پر تقریبا 30 راکٹ داغے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فلسطینی علاقوں سے تشدد کے یہ واقعات ناقابل برداشت ہیں۔

Condoleezza Rice bei Mahmoud Abbas Palästina

محمود عباس وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائیس سے بھی ملیں گے۔

ان حالات میں یورپی یونین کی جانب سے ایک بیان میں دونوں فریقوں کی جانب سے اشتعال انگیز کارروئیوں سے گریز کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ اسرائیل اور غزہ پٹی کے درمیان تناؤ میں پچھلے ایک ماہ کے دوران اس وقت سے تیزی سے اضافہ ہوا جب فلسطینی علاقوں سے راکٹ حملوں کے جواب میں اسرائیلی فوج نے بھی کارروائی شروع کر دی تھی۔

دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس امریکی دارالحکومت واشنگٹن پہنچ گئے ہیں جہاں وہ مدت صدارت مکمل کرنے والے امریکی صدر جورج بُش سے آج الوداعی ملاقات کریں گے۔ امریکی صدر سے ملاقات کے علاوہ محمود عباس وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائیس سے بھی ملیں گے۔