1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی علامت بننے والی تصویر

ایک وکیل کی یہ تصویر غیر متوقع طور پر پُرکشش ہے اور اسرائیلی قبضے کے خلاف پڑھے لکھے فلسطینیوں کی بیزاری کا اظہار بھی کرتی ہے۔ اس تصویر کو موجودہ فلسطینی، اسرائیلی تصادم کی ایک یادگار تصویر قرار دیا جا رہا ہے۔

عمومی طور پر اسرائیلی فوجیوں کے خلاف پتھر پھینکنے والے ایسے فلسطینی نوجوانوں کی تصاویر منظر عام پر آتی ہیں، جنہوں نے چہرے پر نقاب پہن رکھے ہوتے ہیں۔ لیکن یہ تصویر ان سے مختلف ہے۔ وکیل حسن عجاج نے پیشہ وارانہ کپڑے پہن رکھے ہیں اور تصوير ميں ان کے ردعمل سے فلسطینیوں کی مایوسی ظاہر ہوتی ہے۔

یہ تصویر بارہ اکتوبر کو نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک فوٹو گرافر نے لی تھی اور صرف ایک فوٹو شیئرنگ ویب سائٹ پر اسے اٹھارہ لاکھ افراد دیکھ چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق گزشتہ پانچ دہائیوں پر محیط اسرائیلی قبضے سے زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والا فلسطینی متاثر ہوا ہے۔ یہاں تک کہ قریبی ایئر پورٹ یا پھر ساحل سمندر جانے پر بھی پابندیاں عائد ہیں جبکہ چیک پوائنٹس پر فلسطینیوں کو دن میں متعدد مرتبہ تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔

چھبیس سالہ عجاج کا رملہ میں اپنے خاندان کے ملکیتی ریستوران کی چھت پر نیوز ایجنسی اے پی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا، ’’تصویر میں فلسطینی وکیل نظر آتا ہے اور میں اپنے لوگوں کا حصہ ہوں، ان فلسطینیوں کا حصہ ہوں، جو آزادی کی خواہش رکھتے ہیں۔‘‘

Israel Palestinien Zusammenstößen Proteste

اسرائیلی قبضے کے خلاف اٹھنے والی فلسطینیوں کی موجودہ نسل اسّی کی دہائی والی نسل سے مختلف ہے

اسرائیلی قبضے کے خلاف اٹھنے والی فلسطینیوں کی موجودہ نسل اسّی کی دہائی والی نسل سے مختلف ہے۔ آج کی نسل اپنے والدین سے زیادہ پڑھی لکھی ہے اور یہ بھی بہتر طریقے سے جانتی ہے کہ دنیا کو اپنے مسائل سے کس طرح آگاہ کرنا ہے۔ دس برس پہلے کی نسبت اس وقت کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے فلسطینی نوجوانوں کی تعداد دو لاکھ بائیس ہزار زائد ہے۔

عجاج اور اس طرح کے دیگر فلسطینی سوشل میڈیا کے ذریعے امریکا اور یورپ کے نوجوانوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ عجاج کا کہنا تھا، ’’سوشل میڈیا کے ذریعے ہمیں اپنے معاشرے کا دوسرے معاشروں سے موازنہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔‘‘ عجاج کے مطابق سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا تک فلسطینوں کا موقف زیادہ بہتر انداز میں پہنچ رہا ہے۔

فلسطینوں اور اسرائیل کے مابین موجودہ خونریز جھڑپوں کا آغاز ستمبر کے وسط میں ہوا تھا۔ اس کے نتیجے میں اب تک گيارہ اسرائیلی اور 68 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق آج بھی ایک سولہ سالہ فلسطینی لڑکے نے ایک اسرائیلی فوجی پر چاقو سے حملہ کرنے کی کوشش کی۔ اسرائیلی فوجی کی فائرنگ سے فلسطینی لڑکا ہلاک ہو گيا۔