1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیل کے خلاف احتجاج، مصنوعات پر مختلف لیبل لگیں گے

یورپی یونین اسرائیلی پالسیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تیار کی جانے والی اسرائیلی مصنوعات پر مختلف لیبل لگانے والی ہے۔ اسرائیل نے اس اقدام کی شدید مخالفت کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

یورپی یونین کے مطابق اسرائیل کے دیگر علاقوں کے برعکس مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تیار کی جانے والے اسرائیلی مصنوعات پر مختلف لیبل لگیں گے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ لیبل مقبوضہ مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور گولان کی پہاڑیوں والے علاقوں میں تیار کی جانے والی مصنوعات پر لگائے جائیں گے۔ اسرائیل کے وزیر توانائی نے یروشلم میں غیر ملکی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین کا یہ اقدام سامیت مخالف ہے۔ اسرائیلی وزیر یووال شٹائنٹس کا کہنا تھا، ’’میرے خیال سے یہ اقدام اشتعال انگیز اور غیرمنصفانہ ہے۔‘‘

یورپی کمیشن اس وقت ایک ایسی گائیڈ لائن تیار کر رہا ہے، جس کے تحت صارفین کے تحفظ کے قوانین میں تبدیلی اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی اسرائیلی مصنوعات پر لیبل لگائے جائیں گے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق یورپی یونین یہ گائیڈ لائن بدھ کے روز جاری کر دے گی۔ یورپی یونین ایک طویل عرصے سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے حوالے سے اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بناتی آ رہی ہے۔ یورپی یونین کا موقف ہے کہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں نئی آبادکاری بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

اسرائیلی توانائی کے وزیر اور وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے قریبی ساتھی کا کہنا تھا کہ یہ اقدام یورپی یونین کے دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے، ’’یورپی یونین میں سے کبھی کسی نے نام نہاد (ترک) مقبوضہ قبرص کی مصنوعات پر لیبل لگانے کی بات کی ہے؟ کیا کبھی کسی نے کشمیر یا پھر تبت کی مصنوعات پر لیبل لگانے کی بات کی ہے ؟‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’میرے خیال میں یہ یہودی ریاست کے خلاف امتیازی سلوک ہے۔‘‘

مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی اسرائیلی مصنوعات پر لیبل لگانے کا آئیڈیا یورپی یونین میں ایک عرصے سے گردش کر رہا تھا لیکن اس میں تیزی اس وقت آئی، جب سولہ ممالک کے وزرائے خارجہ نے یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگیرینی کو یہ اقدام اٹھانے کے لیے خط لکھا۔ خط لکھنے والوں میں برطانیہ، اٹلی اور فرانس بھی شامل تھے۔

برسلز حکام کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل نے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں گرین لائن سے آگے تعمیرات کا سلسلہ جاری رکھا تو مزید تادیبی اقدامات پر غور کیا جائے گا۔