1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیل کی مستقل سرحدوں کے تعین کا منصوبہ

قائم مقام اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے اسرائیل کو مستقل طور پر فلسطینیوں سے الگ کرنے کے اپنے منصوبے کا اعلان کیا ہے لیکن انہیں اس سلسلے میں نہ صرف اندرونی بلکہ بیرونی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔

default

آج اسرائیل کی نئی کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے اور باضابطہ طور پر اپنے کام کا آغاز کر دیا ہے۔ مخلوط حکومت کے سربراہ ایہود اولمرٹ نے اپنی کابینہ کو متعارف کراتے ہوئے کہا، انہیں یقین ہے کہ آئندہ چار برس کے اندر اندر اسرائیل کی مستقل سرحدیں وجود میں آجائیں گی۔ ایہود اولمرٹ نے کہا کہ اسرائیلیوں کو غرب اردن کی اسرائیلی سرزمین سے کٹی ہوئی الگ تھلگ یہودی بستیوں کو چھوڑنا ہو گا اور بڑی بستیوں کو ہمیشہ کے لیے اپنے کنٹرول میںلانا ہو گا۔

انہوں نے کہا، وہ مشرق وسطی کے امن منصوبے کے تحت فلسطینیوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرنا چاہتے ہیں لیکن فلسطینیوں کی طرف سے مزاحمت کی گئی تو وہ یکطرفہ طور پر اسرائیل کے لئے سرحدوں کا تعین کریں گے۔ ایہود اولمرٹ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اسرائیل کی مستقل سرحدوں کے قیام کی آواز اٹھائی تھی اور ان کا کہنا ہے کہ کادیما پارٹی کی کامیابی عوام میں ان کے پروگرام پر اعتماد کی علامت ہے۔

ادھر فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کو از سر نو شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حماس تحریک کی کامیابی مشرق وسطےٰ میں قیامِ امن کے عمل میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ امن مذاکرات کا فلسطینی کابینہ سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ چیز فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ ہونے کی حیثیت سے اُن کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ایہود اولمرٹ کو مستقل سرحدیں بنانے سے متعلق اپنے پروگرام کے سلسلے میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ایہود اولمرٹ کی آج کی تقریر پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے مخلوط حکومت میں شامل شاس پارٹی نے کہا کہ اسرائیل کی مستقل اور حتمی سرحدوں کا تعین فلسطینیوں سے ہم آہنگی کے ساتھ نہ ہوا تو وہ مخلوط حکومت سے الگ ہو جائے گی۔

اسرائیل کی دائیں بازو کی شدت پسند جماعتیں بھی ایہود اولمرٹ کے مستقل سرحدوں کے قیام کے پروگرام کو قبول نہیں کرتیں کیونکہ وہ زیادہ وسیع پیمانے پر فلسطینی اراضی کو اسرائیل کا حصہ بنانے کی خواہاں ہیں۔ موجودہ مخلوط حکومت ٹوٹنے کی صورت میں ایہود اولمرٹ کو دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ حکومت تشکیل دینا پڑے گی اور تب اُنہیں اِن جماعتوں کے دباﺅ کی وجہ سے اپنے پروگرام میں بھی تبدیلی کرنا پڑے گی۔