1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیل کی مخالفت کے باوجود فلسطین انٹرپول کا رکن بن گیا

بین الاقوامی سطح پر فلسطینی اتھارٹی کو مزید ایک بڑی کامیابی حاصل ہو گئی ہے۔ اسرائیل کی شدید ترین مخالفت کے باجود انٹرپول نے فلسطینی ریاست کو بطور رُکن تسلیم کر لیا ہے۔

اسرائیلی لابیز کی طرف سے عالمی اداروں میں فلسطین کی شمولیت کی شدید مخالفت کی جاتی ہے۔ اس حوالے سے گزشتہ برس اسرائیل کو اس وقت کامیابی بھی حاصل ہوئی تھی، جب فلسطین گلوبل پولیس باڈی کا رکن بننے میں ناکام ہو گیا تھا۔ اب بیجنگ میں ہونے والے انٹرپول کے سالانہ اجلاس میں فلسطین کی طرف سے رکنیت کی درخواست قبول کر لی گئی ہے۔

انٹرپول کی طرف سے ٹوئٹر پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے، ’’ فلسطینی ریاست اور جزائر سلیمان کے انٹرپول میں آنے سے اس کے اراکین کی تعداد ایک سو بانوے ہو گئی ہے۔‘‘ بتایا گیا ہے کہ اس حوالے سے خفیہ رائے شماری کرائی گئی تھی۔ ووٹنگ کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں ہیں لیکن رکنیت حاصل کرنے کے لیے جنرل اسمبلی میں موجود ملکوں کی دو تہائی اکثریت کی حمایت لازمی ہے۔

فلسطین لبریشن آرگنائزیشن ( پی ایل او) کی طرف سے ٹوئٹر پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ انہیں 75 فیصد سے زائد ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ اسرائیل کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق انٹرپول نے فلسطین کو رکنیت دیتے ہوئے اس دنیا کو ایک ’خطرناک جگہ‘ بنا دیا ہے۔ اسرائیل کا موقف تھا کہ فلسطین کوئی ریاست نہیں ہے اور اس وجہ سے وہ انٹرپول کا حصہ بھی نہیں بن سکتا۔ رائے شماری سے کچھ دیر پہلے اسرائیلی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ اس عمل کو آئندہ برس تک ملتوی کرنے کی اسرائیلی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔

امریکا کا دو ریاستی حل سے پیچھے ہٹنا غیر ذمہ دارانہ ہے، فلسطینی رہنما

سن دو ہزار بارہ میں فلسطین کو اقوام متحدہ میں ایک مبصر ملک کی حیثیت حاصل ہو گئی تھی، جس کے بعد سے فلسطین پچاس سے زائد بین الاقوامی تنظیموں اور معاہدوں کا حصہ بن چکا ہے۔ فلسطین جن بین الاقوامی اداروں کا رکن بن چکا ہے، ان میں انٹرنیشنل کریمنل کورٹ اور  اقوام متحدہ کی ثقافتی ورثے کی تنظیم یونیسکو بھی شامل ہیں۔

اسرائیل کی طرف سے مخالفت کے حوالے سے فلسطینی اعلیٰ عہدیدار جبريل الرجوب کا نیوز ایجنسی اے اہف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ وہ نہیں چاہتے کہ ہم فلسطینی ریاست کے قیام کی طرف کوئی قدم اٹھائیں۔ اسرائیل یہ نہیں چاہتا کہ ہم فیفا کے رکن بنیں تو وہ یہ کیسے چاہے گا کہ ہم انٹرپول کی رکنیت حاصل کریں؟‘‘

DW.COM