1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیل کو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں شمولیت کی دعوت

عالمی ادارہ برائے ایٹمی توانائی کے سربراہ نے اسرائیل کو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں شمولیت اور نیوکلیئر تنصیبات کو معائنے کے لئے پیش کرنے کی دعوت دی ہے۔ ’آئی اے ای اے‘ نے اس حوالے سے رپورٹ جمعہ کو شائع کی ہے۔

default

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا امانو

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل یوکیا امانو نے گزشتہ دنوں دورہ اسرائیل کے موقع پر یروشلم حکام سے ملاقات کی تھی، جس کا مقصد انہیں ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے NPT میں شامل ہونے کے لئے تیار کرنا تھا۔

اسرائیل کو مشرق وسطیٰ کی واحد ایٹمی ریاست سمجھا جاتا ہے، تاہم یروشلم حکام اس کی تردید یا تصدیق نہیں کرتے۔ ان کے ہمسایہ ممالک اس ایٹمی پروگرام کو خطرہ تصور کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد عرب ریاستیں اسرائیل کی ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں شمولیت چاہتی ہیں۔

Österreich Iran Atom Sitzung der IAEA in Wien

آئی اے ای اے کا اجلاس

اس معاملے پر ’آئی اے ای اے‘ کے بورڈ اور جنرل اسمبلی کے اجلاس میں دوبارہ بحث متوقع ہے، جو رواں ماہ کے اواخر میں منعقد ہو گا۔

گزشتہ برس عرب ریاستیں ایران کی حمایت سے اسی جنرل اسمبلی میں اسرائیل کو NPT میں شامل کرانے کے لئے محدود حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تھیں۔ اس موقع پر انہوں نے یوکیا امانو پر زور دیا تھا کہ اس حوالے سے کامیابی کے لئے اسرائیل کے ایٹمی پروگرام پر تشویش رکھنے والے ممالک سے مشاورت کریں۔

’آئی اے ای اے‘ کی رپورٹ کے مطابق دورہ اسرائیل کے موقع پر یوکیا امانو نے یروشلم حکام کو اسمبلی کی تشویش سے آگاہ کیا تھا اور ’این پی ٹی‘ میں شامل ہونے کی دعوت بھی دی تھی۔

دوسری جانب اسرائیل نے ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں شمولیت کو مشرق وسطیٰ کے جامع امن سے مشروط کر رکھا ہے۔ خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران جیسی علاقائی طاقتوں نے اسرائیلی ریاست کو تسلیم ہی نہیں کیا، جس کے باعث یروشلم کی یہ شرط پوری ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔

مغربی طاقتیں اس خطے میں ایٹمی عدم پھیلاؤ کو درپیش سب سے بڑا خطرہ ایران کو قرار دیتی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کو تنہا کرنے سے مشرق وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والوں ہتھیاروں پر پابندی کی کوششیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

Flash-Galerie Nahost Friedensgespräche in Washington

اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں کے مابین براہ راست مذاکرت جمعرات کو بحال ہوئے

روئٹرز نے مغربی سفارتکاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ یوں اس موضوع پر 2012ء میں کرائی جانے والی کانفرنس کا منصوبہ بھی پیچیدہ ہو سکتا ہے۔

’آئی اے ای اے‘ کے سربراہ یوکیا امانو کی رپورٹ واشنگٹن میں اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں کے مابین براہ راست مذاکرات کے دوسرے دن شائع کی گئی ہے۔

رپورٹ : ندیم گِل

ادارت : افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس