1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیل کو توثیق کرنا ہی ہو گی، اقوام متحدہ

جوہری تجربوں پر پابندی کے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے قائم کیے گئے اقوام متحدہ کے ادارے نے اسرائیل اور ایران پر اس حوالے سے زور ڈالا ہے۔ اس ادارے کے مطابق ان دونوں ممالک کو اس معاہدے کی توثیق کرنا ہی ہو گی۔

جوہری تجربوں پر پابندی کے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے قائم کیے گئے اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق اسرائیل کو اس معاہدے کی توثیق کے لیے پانچ سال تک کا وقت دیا گیا ہے جبکہ اس بیان میں ایران کے لیے وقت کی کسی پابندی کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس ادارے کے سربراہ لاسینو زیربو نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اس معاہدے کی توثیق کرنے والا ایک اہم ملک ہو گا اور انہیں امید ہے کہ اگلے پانچ برسوں میں یہ کام مکمل ہو جائے گا، ’’اس سلسلے میں مجھے اسرائیل کی جانب سے مثبت اشارے ملے ہیں‘‘۔ زیربو نے ابھی جون میں ہی پہلی مرتبہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن باہو سے ملاقات کی تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ برس ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کی وجہ سے مشرق وسطٰی میں اعتماد سازی کے لیے فضا سازگار ہو رہی ہے اور یہ صورتحال دیگر ممالک کو بھی آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ دے گی۔ لاسینو زیربو کے مطابق وہ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے کئی مرتبہ ملاقاتیں کر چکے ہیں اور ایران جوہری تجربوں پر پابندی کے لیے قائم کی جانے والی اس تنظیم میں انتہائی سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔

کومپری ہینسو نیوکلیئر ٹیسٹ بین ٹریٹی ’سی ٹی بی ٹی‘ کے 196 ارکان ہیں۔ ان میں سے 180 ممالک اس معاہدے پر دستخط کر چکے ہیں جبکہ 164 کی جانب سے اس کی توثیق بھی کی جا چکی ہے۔ تاہم اس معاہدے پر ابھی تک اس وجہ سے عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے کیونکہ جوہری توانائی کے ری ایکٹرز رکھنے والے آٹھ ممالک کی جانب سے ابھی اس کی توثیق ہونا باقی ہے۔ یہ ممالک امریکا، چین، ایران، اسرائیل، مصر، بھارت، شمالی کوریا اور پاکستان ہیں۔