1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیل کو اقوام متحدہ کی قانونی امور کی کمیٹی کی صدارت حاصل

اسرائیل اقوام متحدہ کی قانونی کمیٹی کی صدارت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے قیام کے بعد سے ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ اسرائیل کو اقوام متحدہ کی چھ مستقل کمیٹیوں میں سے کسی ایک کی صدارات ملی ہے۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق گو کہ کمیٹی کی صدارت کرنا ایک علامتی جیت ہے تاہم اس کامیابی سے اسرائیل کو اقوام متحدہ کے امور میں ایک اہم پوزیشن ضرور حاصل ہو گی۔ یہ کمیٹی بین الاقوامی قوانین سے متعلق امور کا جائزہ لے گی۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی چھ قائمہ کمیٹیاں ہیں۔ ان میں تخفیف اسلحہ، اقتصادی اور معاشی امور، انسانی حقوق، نوآبادیاتی، اقوام متحدہ کے بجٹ اور قانونی امور کی کمیٹیاں شامل ہیں۔

اقوام متحدہ میں اسرائیل کی مندوب ڈینی ڈینن نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا ہے، ’’میں پہلا اسرائیلی ہوں جو اس پوزیشن پر منتخب ہوا ہے، مجھے اس پر فخر ہے، اسرائیل بین الاقوامی قوانین اور انسداد دہشت گردی کے حوالے سے ایک عالمی لیڈر ہے، یہ بات خوش آئند ہے کہ ہم اپنی معلومات دنیا کے دوسرے ممالک تک پہنچا سکیں گے۔‘‘

عمومی طور پر کمیٹیوں کے سربراہ کو ووٹنگ کے بغیر اتفاق رائے سے چنا جاتا ہے۔ قانونی امور کی کمیٹی کی صدارت ملنے کے معاملے پر اسرائیل کے حریف ممالک نے ووٹنگ کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ جس پر امریکہ میں اقوام متحدہ کے مندوب ڈیوڈ پریسمین نے شدید تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ ہمیں ایسی اقوام متحدہ چاہیے جو اسرائیل کو قریب لائے ناکہ اسے دور کرے۔

اقوام متحدہ میں فلسطین کے چیف وفد، ریاض منصور نے اس فیصلے کے حوالے سے کہا ہے، ’’اسرائیل سب سے زیادہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والا ملک ہے اور ڈینن کو قانونی امور کی کمیٹی کی صدارت ملنا اس کمیٹی کے کام کو متاثر کر سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ عرب لیگ اور آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن نے اسرائیل کو قانونی کمیٹی کی صدارت دینے کی خلاف ورزی کی تھی۔

DW.COM