1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیل کا نیا منصوبہ، حضرت داؤد کی غلیل کیا ہے؟

اسرائیل اگلے برس کے وسط تک میزائل شکن نظام ’ڈیوڈز سِلنِگ‘ یا ’داؤد کی غلیل‘ نصب کردے گا۔ اس جدید دفاعی نظام کو امریکا کی امداد سے تیار کیا گیا ہے۔

اسرائیلی دفاعی حکام نے اعلان کیا ہے کہ ’ڈیوڈز سِلنِگ‘ نے اختتامی تکنیکی مراحل کامیابی سے طے کرلیے ہیں، سو اسے اب سن دو ہزار سولہ کے وسط تک نافذ العمل کر دیا جائے گا۔

یہ میزائل شکن نظام سو سے دو سو کلومیٹر کے فاصلے تک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ کروز میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف بھی کارآمد ہے۔

واضح رہے کہ فلسطین اور لبنان سے وقتاً فوقتاً اسرائیل پر راکٹ داغے جاتے ہیں۔ ابھی چند روز قبل لبنان کے جنوبی علاقے سے شمالی اسرائیل میں کئی راکٹ فائر کیے گئے تھے، جس کے جواب میں اسرائیل نے کارروائی کی تھی۔ لبنان سے ایرانی حمایت یافتہ عسکری تنظیم حزب اللہ، اور فلسطین سے مسلح گروپ حماس اسرائیل پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ یہ راکٹ اکثر آبادی پر بھی گرتے ہیں جس سے جانی نقصان ہوتا رہتا ہے۔ مذکورہ میزائل شکن نظام انہی حملوں کو روکنے کی غرض سے نصب کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ’ڈیوڈز سِلنِگ‘ کے علاوہ اسرائیل کے پاس ’آئرن ڈوم‘ یا فولادی گنبد اور ’ایرو بیلسٹک میزائل انٹرسیپٹر‘ جیسے نظام پہلے ہی سے موجود ہیں۔ یہ تمام نظام مل کر اسرائیل کو راکٹ حملوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کریں گے۔

اسرائیل ان منصوبوں کی تکمیل امریکی امداد سے کر رہا ہے۔ اسرائیلی حکومت کا مؤقف ہے کہ اسے علاقے میں ایسے ممالک سے خطرہ ہے جو اس کی جانب جارحانہ رویہ رکھتے ہیں۔ دوسری جانب لبنان اور غزہ میں سرگرم اسلامی گروپ اسرائیل پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ ان کے علاقوں میں جنگی جرائم کا مرتکب ہوتا رہا ہے۔

اسرائیل کی وزارت دفاع نے پیر کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈیوڈز سِلنِگ‘ نے چوتھا اور آخری تکنیکی مرحلہ طے کر لیا ہے اور یہ اگلے برس اسرائیلی ایئر فورس کے حوالے کر دیا جائے گا۔

حضرت داؤد کی غلیل سے منسوب اس نظام کو ’میجِک وانڈ‘ یا جادو کی چھڑی کے نام سے بھی پکارا جا رہا ہے۔ اسے امریکی مدد سے سرکاری کمپنی رافائل نے تیار کیا ہے۔ اسی کمپنی نے ’آئرن ڈوم‘ بھی تیار کیا تھا۔

دیکھنا ہے کہ اسرائیل کا یہ تازہ ترین میزائل شکن کس حد تک فلسطین اور لبنان سے داغے جانے والے راکٹوں سے اسے بچا سکے گا۔