1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیل نے مسجد الاقصیٰ تک مسلمانوں کی رسائی محدود کر دی

اسرائیل نے پچاس برس سے کم عمر مسلمانوں پر مسجد الاقصیٰ میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ گزشتہ جمعے کو ایک پرتشدد واقعے کے بعد مسجد الاقصیٰ میں نماز جمعہ نہیں پڑھی جا سکی تھی اور اسی تناظر میں آج مظاہرے متوقع ہیں۔

اسرائیلی پولیس نے پچاس برس سے کم عمر مسلمانوں کو مسجد الاقصیٰ جانے سے روکنے کے اعلان کے علاوہ مسجد تک جانے والے تمام راستوں پر میٹل ڈیٹیکٹرز بھی نصب کر دیے ہیں۔ اس کے علاوہ آج جمعے کے روز پولیس کی بھاری نفری بھی بیت المقدس کے آس پاس تعینات کر دی گئی ہے۔

یروشلم کے مشرقی حصوں میں یہ اقدامات گزشتہ شب اسرائیلی کابینہ کے اس اجلاس کے بعد اٹھائے گئے ہیں، جس میں پولیس کی جانب سے بیت المقدس جانے والے تمام راستوں پر میٹل ڈیٹیکٹرز نصب کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ کابینہ نے اس تجویز کو برقرار رکھتے ہوئے یروشلم کے قدیمی حصے میں سکیورٹی اقدامات میں اضافے کی منظوری دی۔

گزشتہ ہفتے ایک فلسطینی حملہ آور نے فائرنگ کرکے اسی علاقے میں دو اسرائیلی پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔ فلسطینیوں کا الزام ہے کہ اسرائیلی میٹل ڈیٹیکٹرز نصب کرنے جیسے اقدامات کے ذریعے بیت المقدس پر اپنا قبضہ مضبوط کرنا چاہتا ہے۔

Israel verschärfte Sicherheitsvorkehrungen am Tempelberg in Jerusalem (Getty Images/AFP/T. Coex)

گزشتہ ہفتے ایک پرتشدد واقعے کے بعد اسرائیل نے سخت سکیورٹی اقدامات کیے ہیں

اسرائیل نے ان فلسطینی الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمومی سکیورٹی آلات ہیں، جن میں واحد مقصد کسی ناخوش گوار واقعے سے بچنا ہے۔

مسلم رہنماؤں کی جانب سے اس اسرائیلی پابندی کے بعد اعلان کیا گیا ہے کہ نمازی مسجد الاقصیٰ کے قریب گلیوں ہی میں جمعے کی نماز ادا کریں۔ گزشتہ روز بھی یروشلم کے قدیمی حصے میں اسی تناظر میں مظاہرے دیکھنے میں آئے تھے، جب کہ اسرائیلی پولیس کی جانب سے ان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیوں استعمال کیا گیا۔

دوسری جانب ترکی میں قوم پرستوں کی جانب سے استنبول میں ایک یہودی عبادت گاہ کے باہر احتجاج کیا گیا۔ ترک میڈیا کے مطابق قوم پرستوں کا یہ احتجاج یروشلم میں قائم مسجد الاقصیٰ کے باہر سخت اسرائیلی سکیورٹی اقدامات کے نفاذ کے خلاف کیا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے افراد نے استنبول کے مرکز میں اس احتجاج کے دوران ایک بیان پڑھا، جس میں اسرائیل کو ’دہشت گرد ریاست‘ قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کے عبادت کے حق کو محدود کرنے پر شدید تنقید کی۔ اس بیان میں کہا گیا کہ ’اگر یہودی مسلمانوں کے عبادت کے حق پر وہاں قدغن لگائیں گے، تو مسلمان یہودیوں کے عبادت کے حق پر یہاں قدغن لگا دیں گے‘۔