1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

اسرائیل میں Haredim یہودیوں کا احتجاج

مشرق وسطٰی میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کےمابین تناؤ سے تو ہر کوئی واقف ہے لیکن اسرائیل کے اندر حکام اور Haredim کہلانے والے انتہائی قدامت پسند یہودیوں کے مابین تنازعہ بھی اب کوئی چھپی بات نہیں ہے۔

default

یروشلم کے نواح میں واقع تاریخی شہر Mea Shearim میں گزشتہ ہفتہ کے دن بھی انتہائی قدامت پسند یہودیوں نے اپنے مظاہرے جاری رکھے اور کوئی 700 مظاہرین نے حکومت مخالف پر امن مظاہرے کئے تاہم اس دوران پولیس نے کئی مظاہرین کو گرفتار بھی کیا۔

اسرائیل میں یہ مظاہرے چھ ہفتے قبل اُس وقت شروع ہوئے تھے جب یروشلم کے سیکولر مئیر نیر برکات نے حکم دیا کہ اس تاریخی شہر کے قریب ہی سیاحوں کے لئے ایک پارکنگ کا قیام عمل میں لایا جائے۔ اس پر علاقے کے کٹر رابیوں نے یہ کہہ کر مظاہرے شروع کئے کہ اس پارکنگ کے قیام سے بالخصوص ہفتے کو یہودیوں کے مقدس دن عبادت میں خلل پڑے گا۔ اس فیصلے کے خلاف Haredi یہودی گروہ گزشتہ چھ ہفتوں سے مظاہرے کر رہے ہیں۔ اس تنازعہ پر تصفیے کی امید پیدا ہوئی تو انتہائی قدامت پسند یہودی فرقے سے تعلق رکھنے والی ، چار بچوں کی ماں کو اپنے ہی بچے کو بھوکا رکھنے کے الزام میں، اس ماں کے نظر بندی کے عدالتی فیصلے پر حالات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔

پولیس اور استغاثہ کا ماننا ہے یہ عورت دماغی مریض ہے اور اس نے اپنے بچے کو دانستہ طور پر بھوکا رکھا ہے۔ بچے کی حالت بگڑنے پر اسے ایک ہسپتال میں داخل کرنا پڑا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس ساڑھے تین سالہ بچے کا وزن صرف سات کلو ہے۔

اس عدالتی فیصلے پر ہزاروں الٹرا آرتھوڈکس یہودیوں نے اپنے مظاہروں کے دوران پولیس اور گاڑیوں پر پتھراؤ کیا، ٹریفک لائیٹس توڑ دیں اور کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں کو آگ لگا دی۔

الٹر آرتھوڈکس یہودیوں کا کہنا ہے کہ ایک ماں اپنے بچے کو کیسے بھوکا رکھ سکتی ہے۔ ان مظاہروں کے بعد اس خاتون کی نظر بندی ختم کر کے اسے نفسیاتی تھراپی دینےکے لئے ایک ہسپتال میں منتقل کر دیا گیا تاہم وہ اپنے چاروں بچے سے نہیں مل سکتی۔

حالیہ دنوں میں اٹھنے والے ان دونوں تنازعات کے نتیجے میں اسرائیلی ویلفئیر اسٹیٹ اور الٹرا آرتھوڈکس یہودیوں کے مابین ایک نئی کشمکش شروع ہو گئی ہے۔ Haredi عوام کا کہنا ہے کہ ایک ماں کو اپنے ہی بچے کو بھوکا رکھنے کا الزام دراصل ان کے فرقے کو بدنام کرنے کی ایک کوشش ہے۔ Haredi فرقے سے تعلق رکھنے والے یوسف نامی ایک نوجوان نے اپنا پورا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسرائیلی پولیس ان کو پر تشدد اور برا ثابت کرنے کے لئے وہی طریقہ کاراستعمال کر رہی ہے جو کسی زمانے میں نازیوں نے کیا تھا۔ انتہائی قدامت پسند یہودی یروشلم کی کل آبادی کا ایک تہائی ہیں اور ان میں سے کچھ انتہائی قدامت پسند فرقے اسرائیل کے وجود کو تسلیم بھی نہیں کرتے۔

رپورٹ : عاطف بلوچ

ادارت : امجد علی