1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیل میں نئے انتخابات

اب اگلے 90 دنوں تک مشرق وسطٰی میں امن کے سلسلے میں شاید ہی کوئی پیش رفت ہو پائے گی۔

default

نئے انتخابات کا انعقاد کوئی المناک صورت نہیں۔ اسرائیلی صدر Shimon Peres نے یہ کہہ کرنئی حکومت کی تشکیل میں ناکام رہنے والی Zipi Livni کو تسلی دینے کی کوشش کی۔ جس کے جواب میں انہوں نے بھی کہا کہ وہ وزیراعظم بننے کے لئے ہر قیمت ادا کرنے پر تیار نہ تھیں۔ حکومت سازی کے دوران Zipi Livni کی کوشش رہی کہ مخلوط حکومت میں شامل ہونے کی خواہش مند پارٹیوں اور خاص طور پر قدامت پسند جماعت Shas کواپنے ساتھ ملا سکیں۔ لیکن اس کی طرف سے بچوں کے وظیفوں میں خاطر خواہ اضافے کا مطالبہ تسلیم کرنے پر وہ تیار نہ تھیں۔ مزید براں یہ جماعت اس بات پر بھی راضی نہ تھی کہ Livni مشرقی یروشلم کے بارے میں فلسطینیوں کے ساتھ کوئی امن سمجھوتہ طے کریں۔

Map Middle East Israel Lebanon Karte Nahost Israel Libanon englisch Beirut Tel Aviv Golan Höhen Gaza-Streifen

اس امن سمجھوتے کی منزل ایک بار پھردور چلی گئی ہے۔ نئے انتخابات کو تین ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ اس دوران اولمرٹ ایہود ہی حکومتی سربراہ کے طور پر اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔ اس عبوری مدت کے دوران وہ قیام امن کے بارے میں کوئی بنیادی فیصلہ نہیں کر سکتے۔

دوسری جانب فلسطینی صدرمحمودعباس کی پوزیشن مزید کمزور ہو چکی ہے۔ داخلہ پالیسیوں کی سطح پرحماس کے ساتھ مسلسل کشمکش کے دوران اسرائیل ان پر اعتماد کرتا رہا۔ خاص طور پر اب انہیں اس اعتماد کی ضرورت تھی کیونکہ انہیں بھی اب نئے سرے سے صدارتی انتخاب لڑنا ہے ۔

اب اگلے 90 دنوں تک مشرق وسطٰی امن کے سلسلے میں شاہد ہی کوئی پیش رفت ہو پائے گی۔ نئے امریکی صدر کو بھی اپنا عہدہ سنبھا لنے میں کچھ اتنا ہی وقت لگے گا۔ جارج ڈبلیو بش اپنے آخری دنوں میں وہ کچھ کرنے سے رہے جو وہ 8 سالوں میں نہ کر سکے۔ مشرق وسطٰی کے علاقے میں بالاخر امن و استحکام آنا چاہیے۔ خاص طور پر فلسطین کا مسلئہ پر امن طریقے سے حل ہونا چاہیے۔ امریکہ کے صدارتی انتخابات ہوں یا فلسطینیوں کا آپس کا جھگڑا، اسرائیلی سیاسی پارٹیوں کی اندرونی کشمکش ہو یا کوئی اورمسلئہ، ہر بار کوئی نہ کوئی رکاوٹ اس راستے میں حائل ہو جاتی ہے۔

پیٹر فیلپس کا تبصرہ، ترجمہ افضال حسین