1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیل میں مصر کی صورتحال پر گہری تشویش

مصر کی غیر مستحکم صورتحال پر اسرائیل میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ یروشلم میں یہ کہا جا رہا ہے کہ مبارک حکومت کے خاتمے کے نتیجے میں ایک خطرناک خلاء پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی دوران جرمن چانسلر بھی اسرائیل کے دورے پر ہیں۔

default

وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو

وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اتوار 30 جنوری کو اس بات کا اعلان کیا کہ مصر کے تازہ حالات پر اسرائیل کا سرکاری رد عمل کس طرح کا ہونا چاہیے۔ یروشلم میں کابینہ کا ایک اجلاس شروع ہونے سے پہلے اسرائیلی سربراہِ حکومت نے کہا: ’’ہماری کوششوں کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے اِس خطے میں استحکام اور سلامتی برقرار رکھی جائے۔ مَیں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ اسرائیل اور مصر کے درمیان امن کی صورتِ حال تین عشروں سے زیادہ عرصے سے چلی آ رہی ہے اور ہمارا نصب العین اِس بات کو یقینی بنانا ہے کہ یہ تعلقات اِسی طرح جاری رہیں۔ ظاہر ہے کہ اِن حالات میں ہمیں ذمہ داری، احتیاط اور انتہائی دانشمندی سے کام لینا ہو گا ور اسی لئے مَیں نے اپنے وُزراء سے کہہ دیا ہے کہ وہ اِس موضوع پر بیانات جاری کرنے سے گریز کریں۔‘‘

Weltwirtschaftsforum Davos Bundeskanzlerin Angela Merkel

جرمن چانسلر انگیلا میرکل آج پیر کے روز اسرائیل کا دورہ کر رہی ہیں

اخبار ’مارِیو‘ نے اسرائیلی سرکاری ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اسرائیل بدستور مصری صدر مبارک کی جانب سے اپنی حکومت کو مستحکم کرنے میں کامیابی کی امید کر رہا ہے۔ اِس امید کی بنیاد یہ بتائی جا رہی ہے کہ مصر میں طویل عرصے سے خفیہ ادارے کی قیادت کرتے چلے آ رہے عمر سلیمان کو مبارک کا نائب مقرر کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ریڈیو نے اپنی خبروں میں بتایا ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے خیال میں مصر میں ہونے والے ہنگامے مشرقِ وُسطیٰ میں فوجی توازن تبدیل کر کے رکھ دیں گے۔ مزید یہ کہ غزہ کے عسکریت پسند فلسطینی گروپ مصر کی غیر مستحکم صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جزیرہ نما سینائی کے راستے غزہ میں اسلحہ اسمگل کر سکتے ہیں۔

اُدھر غزہ پٹی میں عینی شاہدین کے مطابق پٹرول اور ڈیزل کی قلت کے ابتدائی آثار نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ غزہ پٹی میں نجی استعمال میں آنے والا یہ تمام ایندھن غزہ پٹی اور مصر کے درمیان واقع زیرِ زمین پائپ لائنوں کے ذریعے پہنچتا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے تجزیہ نگاروں کا متفقہ طور پر خیال یہ ہے کہ مبارک زیادہ دیر تک اقتدار پر اپنی گرفت قائم نہیں رکھ سکیں گے اور یوں اسرائیل عرب دُنیا میں اپنے واحد دفاعی ساتھی سے محروم ہو جائے گا۔ مزید یہ کہ امریکی حکومت نے بھی مبارک کا ساتھ چھوڑنے میں کوئی تاخیر نہیں کی۔ اسرائیلی اخبارات میں سے ایک کی شہ سرخی یہ تھی کہ ’اب ہم اکیلے ہیں‘۔

Proteste in Ägypten gegen Mubarak Regime gehen weiter Tahrir Square Platz Kairo

مصری دارالحکومت قاہرہ میں احتجاجی مظاہروں کا ایک منظر

یروشلم کی سڑکوں پر عام لوگوں کے احساسات میں بھی یہی عنصر نمایاں تھا۔ ایک اسرائیلی نے کہا، ’امریکہ نے اپنے گزشتہ عشرے کے بہترین دوست کو ایک سیکنڈ کے اندر اندر بیچ ڈالا ہے۔ اِس سے ہم بھی متاثر ہوں گے، ہم اپنے حلیفوں اور امریکہ کے محتاج ہیں۔ ہم ایک روز صبح جاگیں گے اور اِس نتیجے پر پہنچیں گے کہ پوری دُنیا میں ہمارا ساتھ دینے والا کوئی بھی نہیں۔ ہمیں دَس گنا زیادہ محتاط ہونا چاہیے‘۔

اخبار ’اسرائیل ہایوم‘ کے مطابق اسرائیلی حکومت نے درپردہ اِس بحران سے بروقت نمٹنے کے سلسلے میں وائٹ ہاؤس کے طریقہء کار پر کڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ امریکہ نے مبارک کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ اِسی دوران جرمن جانسلر انگیلا میرکل بھی آج پیر کو اسرائیل پہنچ رہی ہیں، جہاں وہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ دیگر امور کے علاوہ مصر کی غیر مستحکم صورتِ حال پر بھی بات چیت کریں گی۔

رپورٹ: کلیمنز فیرنکوٹے (تل ابیب) / امجد علی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس