1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیل میں مخلوط حکومت کے مزاکرات ناکام

اسرائیل میں رواں ماہ کی دس تاریخ کوعام انتخابات منعقد ہوئے لیکن ابھی تک مخلوط حکومت قائم کرنے کی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوتی نظر آرہی ہیں۔

default

کدیمہ پارٹی کی رہنما زیپی لیونی اور لکڈ پارٹی کے سربراہ بینجامن نیتن یاہو تصویر میں ہاتھ ملاتے نظر آرہے ہیں تاہم دونوں کے مابین مخلوط حکومت کے سلسلے میں مذاکرات ناکام ہوگئے

وزیر اعظم کے عہدے کے لئے سب سے مضبوط دعوے دار بینجامن نیتن یاہو اپنی سیاسی حریف زیپی لیونی کو مخلوط حکومت میں شامل ہونے کے لئے قائل نہیں کرسکے ہیں۔

اسرائیل میں وسیع مخلوط حکومت کی تشکیل کے عمل کو اُس وقت ایک اور دھچکہ لگا جب سخت گیر موٴقف کے حامل سابق وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو اور زیپی لیونی کے مابین حکومت سازی کے مذاکرات ناکام ہوگئے۔

ناکام مذاکرات کے بعد اب ایسے امکانات مزید روشن ہوگئے ہیں کہ اسرائیل کی نئی حکومت سخت گیر سیاسی پارٹیوں پر مبنی ہوگی۔ مخلوط حکومت کے لئے دیگر سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کے لئے نیتن یاہو کے پاس ابھی بھی پانچ ہفتوں کا وقت ہے۔

Benjamin Netanjahu Porträtfoto

اسرائیل کے سابق وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو کے پاس مخلوط حکومت قائم کرنے کے لئے ابھی بھی پانچ ہفتوں کا وقت ہے

زیپی لیونی نے تاہم مفاہمت کے لئے تمام راستے بند نہیں کئے ہیں۔ تل ابیب میں نیتن یاہو کے ساتھ مذاکرات کے بعد لیونی نے کہا اُن کے نزدیک جو اہم مسائل ہیں، اُن پر دونوں سیاست دانوں کی رائے جُدا ہونے کے باعث اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔

Kombibild Livni Peres Netanjahu

اسرائیلی صدر شیمون پیریز نے نیتن یاہو کو حکومت بنانے کے لئے مدعو کیا تھا لیکن ابھی تک اس سلسلے میں تمام کوششیں ناکام نظر آرہی ہیں

لیونی نے کہا کہ خطّے میں اسرائیلی ریاست کی بقاء کے لئے یہ ضروری ہے کہ ایک فلسطینی ریاست کا قیام بھی ممکن بنایا جاسکے۔ ’’خطّے میں دو ریاستوں کا قیام کوئی کھوکھلہ نعرہ نہیں ہے۔ یہی ایک راستہ ہے جس سے جمہوری اسرائیلی ریاست کے وجود کو برقرار رکھا جاسکتا ہے۔‘‘

Flaggen Israel Palästina.jpg

زیپی لیونی خطّے میں دو علیحدہ ریاستوں کے قیام کے حق میں ہیں جبکہ نیتن یاہو آزاد فلسطینی ریاست کا قیام نہیں چاہتے ہیں

کدیمہ پارٹی کی سربراہ اور ملک کی وزیر خارجہ زیپی لیونی نے مزید کہا: ’’ نیتن یاہو کے ساتھ میری ملاقات اُن نکات پر اتفاق رائے کے بغیر ختم ہوگئی، جو حکومت میں شمولیت کے لئے اہم ہیں۔‘‘

لکڈ پارٹی کے سربراہ نیتن یاہو کے مطابق اُنہوں نے لیونی کو شراکت اقتدار کے تعلق سے ایک مخلصانہ پیشکش کی اور یہ یقین بھی دلایا کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ سفارتی عمل کو فروغ دیں گے لیکن اس کے باوجود مذاکراتی عمل کامیاب نہیں ہوسکا۔ ’’ لیونی کی طرف سے مکمل انکار سامنے آیا، وہ اتحاد کے لئے راضی نہیں تھیں۔‘‘

سابق اسرائیلی وزیر اعظم نے مزید کہا:’’میرے لئے یہ بے حد افسوس کی بات ہے کہ محترمہ لیونی نے سیدھے سیدھے حکومت میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔ اُنہوں نے نہ صرف متحدہ حکومت میں شامل ہونے سے بلکہ مشترکہ مذاکرات کے لئے ٹیمیں تشکیل دینے سے بھی انکار کردیا۔‘‘

لیونی اور نیتن یاہو کے درمیان ایک علیحدہ فلسطینی ریاست کے قیام کے تعلق سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ لیونی مغربی کنارے اور غزہ پٹی میں فلسطینی ریاست قائم کرنے کے حق میں ہیں جبکہ نیتن یاہو اس کے زبردست مخالف ہیں۔