1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیل میں مخلوط حکومت کا قیام قریب ترین

اسرائیل کے نامزد وزیر اعظم بین یامین نیتن یاہو درحقیقت انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے رہنما ایویگڈور لیبرمین کو وزیر خارجہ بنانا چاہتے ہیں۔

default

اسرائیل کے نامزد وزیر اعظم نیتن یاہو نامزد وزیر خارجہ لیبرمن

اسرائیل میں ایک مخلوط حکومت کا قیام نزدیک سے نزدیک ترآتا جا رہا ہے۔ لیکوڈ پارٹی اور قوم پرست جماعت یسرائیل بیت نو کے مابین اتحاد بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ نامزد وزیر اعظم بین یامین نیتن یاہو درحقیقت انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے رہنما ایویگڈور لیبرمین کو وزیر خارجہ بنانا چاہتے ہیں۔ قدامت پسند لیبر مین کی وزیرخارجہ کے طور پر نامزدگی کیا لیکوڈ پارٹی کے سربراہ کی ایک چال ہے؟ اس بارے میں ابھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا۔

اسرائیل کو ممکنہ طور پر دائیں بازو کی حکومت کے قیام کے سلسلے میں یورپی یونین کے جانب سے احتجاج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ نیتن یاہو آئندہ دنوں میں کادیما پارٹی کی زپی لیونی کو مخلوط حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں۔

Nahost Wahlen Tzipi Livni Isreael Wahlkampfveranstaltung der Kadima

نیتن یاہو آئندہ دنوں میں کادیما پارٹی کی زپی لیونی کو مخلوط حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں۔

اسرائیل کی عرب آبادی ممکنہ وزیرخارجہ Liebermann سے خوف زدہ ہے۔ کیونکہ وہ واضح طور پرنسلی تطہیر کی سیاست کی حمایت کرتے آئے ہیں۔ وہ اسرائیل کے ان حصوں جہاں عرب آبادی زیادہ ہے مغربی کنارے میں شامل کرنا چاہتے ہیں اور اس کے بدلے میں فلسطینی علاقوں کو اسرائیل کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ کے عرب رکن احمد تبی اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا '' ہم بات کر رہے ہیں ایک فاشسٹ اسرائیلی کی جسے اسرائیلی سفارت کاری کا سربراہ نامذد کیا گیا ہے یعنی وزیر خارجہ۔ لیبرمن کا موازنہ آسٹریا کے دائین بازو کے رہنما ، یورگ ہائیدر سے کیا جاسکتا ہے۔ جیسے ہی ہائیدر آسٹریا میں کامیاب ہوئے تھے وہاں کی حکومت کا اسرائیل سمیت دیگر ممالک نے بائیکاٹ کیا تھا اور اب وقت ہے کہ اسرائیل کی حکومت کا بائیکاٹ کیا جائے، خاص طورپر لیبر من کا''۔

لیبرمن کئی ماہ پہلے یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ اسرائیلی پارلیمان کے ان عرب اراکین کی رکنیت منسوخ کی جائے جو حماس کے ارکان سے ملاقاتین کر چکے ہیں۔ اس وجہ سے تبی کا مطالبہ ہے کہ لیبر من کے خلاف نسل پرستی کو فروغ دینے کی تحقیقات کی جائیں۔

Abbas' neuer Mann

فلسطینی رہنماوں کا ماننا ہے کہ انتہائی دائیں بازو کی حکومت مشرق وسطی امن مذاکرات کے لئے نقصان دہ وہ سکتی ہے

نامذد اسرائیلی وزیر خارجہ کا بائیکاٹ کرنے کی صدائیں غزہ سے بھی سنائی دے رہی ہیں۔ حماس کے ترجمان Ayman Taha نے نیتن یاہو اور لیبر من کے اتحاد پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا '' ہم اسرائیلیوں کے مابین کوئی فرق نہیں سمجھتے۔ ان سب کے ہاتھ ہمارے خون میں رنگے ہوئے ہیں۔ لیبر من کی بطور وزیر خارجہ نامذدگی اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل دیگر ممالک اورخاص طور عرب ملکوں سے اپنے روابط ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیبر من ماضی میں کئی عرب ریاستوں کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کر چکے ہیں''۔

لیبر من کے وزیر خارجہ کے ساتھ مصر کی ثالثی میں ہونے والے اسرائیل ، حماس مذاکرات کے امکانات بالکل معدوم ہو جانے کے خدشات ہیں ،اسی وجہ سے حماس اوراسرائیلی حکام کی کوشش ہے کہ لیبر من کے وزیر خارجہ بننے سے پہلے ہی ان مذاکرات کا کوئی نتیجہ نکل آئے۔