1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اسرائیل میں مخلوط تعلیم کے رجحان میں کمی

ایک اسرائیلی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں بچوں کو مخلوط تعلیمی اداروں کی بجائے صنفی بنیاد پر الگ تھلگ اسکولوں میں تعلیم دلوانے کا رحجان بڑھ رہا ہے۔

default

معروف اسرائیلی اخبار ہیریٹز میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق ریاست کے دینی اداروں میں شروع کیے جانے والے اس اقدام کے نتیجے میں اب ملک کے دیگر حصوں میں بھی بچوں اور بچیوں کو الگ الگ اسکولز میں درس و تدریس فراہم کرنےکا سلسلہ فروغ پا رہا ہے۔ وزارت تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کے پرائمری اسکولز میں صنفی بنیادوں پر تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی شرح 65 فیصد ہے جبکہ ایک دہائی قبل یہ شرح صرف 25 فیصد تھی۔ اسرائیلی حکومت تین قسم کے تعلیمی اداروں کو فنڈز فراہم کرتی ہے۔ ان میں ریاست کی زیر نگرانی چلنے والے تعلیمی ادارے ، قومی دینی ادارے اور کٹر قدامت پسند تعلیمی ادارے شامل ہیں۔

Symbolbild Israel Hillary Clinton

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اسرائیل میں عورتوں کے حقوق کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے

ریاست کی نگرانی میں چلنے والے تعلیمی اداروں میں مخلوط درس و تدریس کا نظام رائج ہے جبکہ کٹر قدامت پسند اداروں میں صنفی بنیادوں پر تعلیم دی جاتی ہے۔ محکمہء شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق حالیہ دو برسوں میں پرائمری سطح کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی شرح کٹر قدامت پسند اسکولز میں28.9 فیصد ، قومی دینی اداروں میں 18.5 فیصد جبکہ ریاست کے زیر نگرانی چلنے والے تعلیمی اداروں میں 52.6 فیصد رہی۔ اسی طرح ثانوی سطح کے تعلیمی اداروں میں یہ شرح بالترتیب 20.2 فیصد، 17.3 فیصد اور 62.5 فیصد رہی ہے۔

Nahost Israel Segregation in der Schullandschaft

اسرائیل میں کٹر قدامت پسند کمیونٹی کو حاصل اختیارات کے حوالے سے بحث جاری ہے

اخبار کے مطابق صنفی بنیادوں پر تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے اسرائیل کو لاکھوں ڈالرز زائدخرچ کرنے پڑ رہے ہیں کیونکہ بچوں اور بچیوں کی الگ الگ درس و تدریس کے لیے اسکولوں میں کلاس رومز معمول کے مقابلے میں کافی چھوٹے سائز کے تعمیر کیے جاتے ہیں۔ یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل میں خواتین کے حقوق اور ملک میں کٹر قدامت پسند کمیونٹی کو حاصل اختیارات کے حوالے سے بحث جاری ہے۔

عورتوں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی کٹر قدامت پسند کمیونٹی عورتوں پر اپنی ثقافتی روایات مسلط کرنا چاہتی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اس سلسلے میں سیاسی شخصیات بشمول دارالحکومت یروشلم کے میئر بھی ان کاروائیوں کے سدباب میں بےبس نظر آتے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے بھی اسرائیل میں عورتوں کے حقوق کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے یہودی ریاست میں صنفی بنیادوں پر وضع کیے گئے ٹرانسپورٹ کے نظام پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے۔

رپورٹ: شاہد افراز خان

ادارت: امجد علی

DW.COM