1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اسرائیل میں اونچی آواز میں اذان دینے پر پابندی کا بِل

اسرائیل میں لاؤڈ اسپیکروں پر اذان دینے پر پابندی کے بِل کے خلاف فلسطینی مسلمانوں کی طرف سے شدید غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے مطابق تمام مذاہب کے لوگوں نے ’اذان کے شور‘ کے حوالے سے شکایات کی ہیں۔

اسرائیلی مساجد میں لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے اذان دینے پر پابندی کی حمایت ملکی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی طرف سے بھی کی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم نے اس تجویز کو ’زندگی کے معیار‘ کو بہتر بنانے کی کوششوں کا رنگ دیا ہے لیکن اسرائیل کی عرب مسلم اقلیت میں یہ احساس تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے کہ انہیں امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔

اسرائیلی پارلیمان میں عرب سیاسی جماعتوں کے سربراہ ایمن عودہ کا کہنا تھا، ’’نماز کے لیے اذان نسل پرستوں سے پہلے بھی تھی اور یہ نسل پرستوں کے بعد بھی رہے گی۔‘‘

ابتدائی طور پر اس بل کو اسرائیلی وزراء کی ایک کمیٹی کی حمایت حاصل ہو گئی ہے، جس میں اسرائیل کی تمام مساجد میں اذان کی آواز کم کر دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس بل کی حمایت کرنے والی ایک مذہبی جماعت کے قوم پرست یہودی قانون ساز کا وضاحت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس مسودہ قانون کے ذریعے مساجد کے لاؤڈ اسپیکروں کو ہدف بنایا جائے گا۔ اسی وجہ سے اس بل کو ’موذن بل‘ بھی کہا جا رہا ہے۔

اس بل کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ آج کل فجر کی اذان صبح پانچ بجے کے قریب ہوتی ہے اور مساجد کے قریب رہائش پذیر یہودیوں کی نیند میں خلل پڑتا ہے۔ وزیر اعظم نیتن یاہو کا رواں ہفتے کابینہ کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’میں تعداد شمار نہیں کر سکتا لیکن ایسا متعدد مرتبہ ہوا ہے۔ تمام مذاہب اور معاشرے کے تمام طبقات کے لوگوں نے مجھ سے رابطہ کیا ہے۔ انہوں نے اس شور کی شکایت کی ہے۔‘‘

دوسری جانب فلسطینی اور عرب شہری اس اقدام کو بےتوقیری اور اسرائیلی معاشرے اور ملکی قیادت کے بڑھتے ہوئے غیر دوستانہ رویے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔  عرب شہری اسرائیل کی آبادی کا پانچواں حصہ بنتے ہیں۔ یہ اسرائیلی یہودیوں کے مقابلے میں اوسطاﹰ کم لکھے پڑھے ہیں اور انہیں ملازمتوں کے مواقع بھی کم دستیاب ہوتے ہیں جبکہ بہت سے اسرائیلی سیاستدان ان کی حب الوطنی پر بھی شبہات کا اظہار کرتے ہیں۔

گزشتہ برس اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ملک کے عرب نسل کے ووٹروں کے بارے میں کہا تھا، ’’مویشی پولنگ کے لیے جا رہے ہیں۔‘‘ اس جملےکو نسل پرستانہ سوچ کا مظہر قرار دیا گیا تھا اور بعد ازاں اسرائیلی وزیر اعظم نے اس پر معافی بھی مانگ لی تھی۔

اسرائیل کے لبرل اخبار ’ہارٹز‘ کے تجزیہ کار زووی بیرل نے لکھا ہے، ’’اسرائیلی لبرل، چاہے وہ یہودی ہوں یا عرب، اس شاندار بل کی حمایت نہیں کر سکتے کیوں کہ اس کا مقصد مسلمانوں کو نقصان پہنچانا ہے۔‘‘

بدھ کے روز اس بل پر ووٹنگ اس وقت روک دی گئی تھی، جب انتہائی قدامت پسند یہودی قانون سازوں نے ایسے خدشات کا اظہار کیا تھا کہ اس کے تحت ان کی طرف سے سائرن بجانے کو بھی روکا جا سکتا ہے۔

ان یہودی قانون سازوں کا کہنا ہے کہ وہ اس بل کی حمایت اس وقت کریں گے، جب اس بل میں یہودیوں کو سائرن بجانے کی اجازت دی جائے گی۔