1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیل سلامتی کونسل میں اپنے خلاف قرارداد پر سخت برہم

اسرائیل سلامتی کونسل میں اپنے خلاف وہ قرارداد منظور ہونے پر سخت برہم ہے، جس میں یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے نو منتخب امریکی صدر سے امیدیں وابستہ کر لی ہیں۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے خلاف منظور ہونےوالی قرارداد پر سخت اسرائیلی رد عمل سے اسرائیل اور بین الاقوامی برادری کے مابین پایا جانے والا وہ تنازعہ ابھر کر سامنے آ گیا ہے، جس کا تعلق مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے مستقبل سے ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے خیال میں اُن کی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی قصبے تعمیر کرنے کی متنازعہ پالیسی میں کچھ بھی غلط نہیں ہے جبکہ دنیا بھر کی بھاری حمایت کے ساتھ فلسطینیوں کا دعویٰ یہ ہے کہ یہ علاقے اُن کی مستقبل کی ریاست کی ملکیت ہیں۔

تاہم گزشتہ جمعے کے روز سلامتی کونسل میں منظور ہونے والی قرارداد اسرائیل کے نام اس بات کا سخت انتباہ ہے کہ باقی دنیا اس پالیسی کو ایک جرم گردانتی ہے۔ اس قرارداد کی منظوری اسرائیلی وزیر اعظم کے لیے ایک بڑے سیاسی دھچکے کے مترادف ہے چنانچہ اب اُنہوں نے اپنی امیدیں نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وابستہ کر لی ہیں۔

اپنے مختلف بیانات میں نیتن یاہو نے اوباما انتظامیہ کو اس بناء پر ہدفِ تنقید بنایا ہے کہ اُس نے اپنا حق رائے دہی محفوظ رکھتے ہوئے قرارداد نمبر 2334 منظور ہونے دی۔

Der israelische Premierminister Ehud Barak in einer Pressekonferenz (picture-alliance/dpa/Tv_Grab)

سابق وزیر اعظم ایہود باراک نے وزیر اعظم پالیسیوں کو ہدفِ تنقید بنایا اور پوچھا:’’کہاں ہیں وہ دوست، جنہوں نے ہمارے ساتھ کھڑا ہونا تھا؟‘‘

اتوار کو نیتن یاہو نے اپنی کابینہ کو بتایا:’’ہمیں جو معلومات ملی ہیں، اُن کے تحت ہمیں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اس قرارداد کے پیچھے اوباما انتظامیہ کی مرضی کارفرما تھی، اس قرارداد کے متن کے سلسلے میں بھی اُس کی منشا شامل تھی اور اُسی نے اس قرارداد کی منظوری کا مطالبہ کیا۔‘‘

اپنے سارے غم و غصے کا رُخ کرتے ہوئے نیتن یاہو نے اس حقیقت سے نظر چُرانے کی کوشش کی ہے کہ سلامتی کونسل کے دیگر تمام چَودہ رکن ملکوں نے اس قرارداد کی حمایت کی اور یہ کہ اِن میں روس، چین اور کئی ترقی پذیر ملکوں سمیت ایسے بھی کئی ملک شامل ہیں، جن کے ساتھ اسرائیل کے خیال میں اُس کے بہت اچھے اور قریبی تعلقات ہیں۔

سابق وزیر اعظم ایہود باراک نے چینل ٹُو ٹی وی سے باتیں کرتے ہوئے کہا:’’یہ وہی وزیر اعظم ہے، جو ہمیں بتاتا رہا کہ درجنوں ممالک ہمارے ساتھ ہیں۔ مَیں تو روس، چین، انگلینڈ، فرانس کی جانب دیکھتا رہا۔ کہاں ہیں وہ دوست، جنہوں نے ہمارے ساتھ کھڑا ہونا تھا؟‘‘

آج کل مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بسائے جانے والے یہودیوں کی تعداد چھ لاکھ کے لگ بھگ ہے، جس سے مستقبل میں ان علاقوں کی اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تقسیم کا معاملہ انتہائی پیچیدہ شکل اختیار کر گیا ہے۔ اس زیادہ تر علامتی قرارداد کے مطابق ان یہودی بستیوں کی ’کوئی قانونی حیثیت‘ نہیں ہے اور یہ بین الاقوامی قانون کی ’سنگین خلاف ورزی‘ کرتے ہوئے تعمیر کی گئی ہیں۔