1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیل سفارتی آداب کی خلاف ورزی پر معذرت کرے: ترکی

ترکی نے اسرائیل پر سفارتی آداب کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے معذرت کا مطالبہ کیا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان متنازعہ ٹی وی پروگرام کے نشر ہونے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

default

ترکی کی جانب سے اسرائیل پر سفارتی آداب کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ترکی کی جانب سے یہ مطالبہ اسرائیلی نائب وزیر خارجہ دینے ایالون کی ترک سفیر احمد اوگوز سیلیکول سے ملاقات کی تصاویراور ویڈیوز کے نشرہونے کے بعد سامنے آیا۔ ان تصاویر میں اسرائیلی نائب وزیر خارجہ خود تو ایک اونچی کرسی پر بیٹھے جب کہ ترک سفیرکو ایک قدرے نچلی کرسی پر بٹھایا گیا۔ اس کے علاوہ اس ملاقات میں میں پر صرف اسرائیل کا پرچم رکھا ہوا ہے۔

ترکی نے احتجاج کے طورپرانقرہ میں اسرائیلی سفیر کو وزارت خارجہ طلب کر کے اس اسرائیلی اقدام کی مذمت کی۔ ترک وزارت خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اپنے اس اقدام کی وضاحت کرے اور اس پر معذرت کرے۔ ترکی نے کہا ہے کہ اسرائیل کا یہ اقدام عالمی سفارت آداب کی خلاف ورزی ہے۔

Israelische Soldaten mit Munition

غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں

ترک میڈیا پر ان دنوں ایک پروگرام نشرکیا جا رہا ہے، جس میں اسرائیلی خفیہ اداروں کے اہلکاروں اور ایجنٹوں کو بچے اغواء کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی نائب وزیر خارجہ دینے ایالون نے کسی بھی طرح کی معذرت سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سفارتی آداب کو مدنظر رکھتے ہوئے ترکی کو خبردارکرنے کا یہ انتہائی کم از کم رویہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ترک میں سیاسی اور دوسرے کھلاڑیوں کو سمجھ جانا چاہئے کہ وہ کشیدگی میں اضافے سے باز رہیں۔

ایک اسرائیلی اخبار میں چھپنے والی تصویر میں سفارت کار اور وزیر کے درمیان ملاقات کے وقت کرسی کے فرق کو ’’ہائٹ آف ہیومیلیشن‘‘ قرار دیا گیا ہے۔

ترکی میں ان دنوں اس ٹی وی سیریز کو انتہائی مقبولیت حاصل ہے۔ اس سے قبل گزشتہ برس اکتوبر میں بھی ترک ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک پروگرام میں اسرائیلی فوجیوں کو فلسطینیوں کا بے دریغ قتل کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اس سیریز کے ایک منظرمیں مسکراتی ہوئی ایک بچی کو اسرائیلی فوجی انتہائی قریب سے اپنی گولی کا نشانہ بناتا ہے۔ اسرائیل نے اس ٹی وی پروگرام پر بھی شدید اعتراض کیا تھا۔

دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اچانک اضافہ ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب آئندہ اتوار کو اسرائیل وزیر دفاع ترکی کا دورہ کرنے والے ہیں۔ ترک ایک لمبے عرصے تک اسرائیل کا اتحادی رہا ہے تاہم اسرائیل کی جانب سے غزہ پر حملے سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ غزہ جنگ پر ترک رہنماؤں کی جانب سےکھلی تنقید سامنے آتی رہی ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM