1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیل دوبارہ حملہ نہیں کرے گا : ایہود باراک

اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک نے پیر کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل حماس کے زیر انتظام غزہ پٹی پر دوبارہ حملہ کرنے کے بارے میں نہیں سوچ رہا ہے۔

default

اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ پٹی پر دوبارہ حملہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا

اسرائیل کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے کہ جب اتوار کو ہونے والے راکٹ حملوں کے جواب میں اسرائیلی طیاروں نے غزہ پٹی پر بمباری بھی کی۔ ایہود باراک نے کہا :’’ ہمارا یہ ارادہ ہر گز نہیں کہ ہم غزہ پٹی کے خلاف آپریشن 2 شروع کریں۔‘‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ راکٹ حملوں کا جواب دیا جائے گا اور اتوار کی رات اسرائیلی طیاروں کے حملے ان بمباری راکٹ حملوں کا جواب تھے۔

Combo Bildkombo Tzipi Livni oder Zipi Liwni (l) und Ehud Barak Quelle: AP; Montage: DW

ایہود باراک لیبر پارٹی جب کہ زپی لیونی قادیمہ پارٹی کی قیادت کر رہی ہیں

اس سے قبل اسرائیلی وزیر خارجہ زپی لیونی نے کہا تھا کہ اگر اسرائیل پر حماس کی جانب سے راکٹ حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو اسرائیل غزہ پٹی پر دوبارہ بھی حملہ کر سکتا ہے۔ دونوں اسرائیلی رہنما 10فروری کو ہونے والے انتخابات میں اپنی اپنی جماعتوں کی جانب سے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار ہیں۔ ایہود باراک لیبر پارٹی کے سربراہ ہیں جب کہ زپی لیونی قادیمہ پارٹی کی چئیرپرسن ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیر خارجہ زپی لیونی نے باراک کے ان اروادوں پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا جس کے تحت وہ مصر کی مدد سے حماس کے ساتھ فائر بندی کا معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

اسرائیلی وزارت دفاع کے مطابق اتوار کی رات اسرائیلی طیاروں نے مصر کے ساتھ غزہ پٹی کی سرحد پر اسمگلنگ کے لئے استعمال ہونے والی سرنگوں کو نشانہ بنایا۔ اسرائیلی فوجی ترجمان کے مطابق ان حملوں میں کوئی شخص ہلاک نہیں ہوا۔ فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ حملے غزہ پٹی سے اسرائیلی علاقوں پر اتوار کے روز ایک درجن سے زائد راکٹ داغے جانے کے بعد کئے گئے۔ حماس کی جانب سے کئے گئے ان راکٹ حملوں میں دو اسرائیلی فوجی سمیت تین افراد زخمی ہوئے۔

Gewalt im Gazastreifen

ایہود باراک فوجیوں سے گفتگو کے دوران

اسرائیلی صدر شعمون پیریز نے مستقبل کی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اقتدار سنبھالتے ہی فلسطینیوں کے ساتھ امن مذاکرات شروع کرے ان کے بقول اسرائیل امن عمل کو مزید چار سال تک موخر نہیں کرسکتا۔

اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم ایہود المرٹ نے کہا تھا کہ راکٹ حملوں کا مناسب جواب دیا جائے گا۔ فلسطینی صدر محمود عباس کی تنظیم فتح سے تعلق رکھنے والے ایک گروپ الاقصیٰ کے ترجمان نے ایک بیان میں اسرائیلی علاقوں پر تازہ راکٹ حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل پر کئی راکٹ داغے گئے جن میں سے کچھ اہنے اہداف تک نہں پہنچے۔

اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک نے ملکی ریڈیو پر کہا:’’ ہم جانتے ہیں حماس کے علاوہ کئی دیگر چھوٹے گروہ بھی ہیں جو ایسے راکٹ حملوں میں ملوث ہیں اور ان کی جانب سے راکٹ حملوں کی ذمہ داری بھی حماس قبول کر لیتی ہے مگر حماس کو ایسے اقدامات سے رکنا ہو گا۔‘‘