1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیل۔ حماس فائر بندی معاہدے کی توسیع خطرے میں؟

فلسطینی عسکریت پسندوں کے تازہ راکٹ حملوں کے باعث اسرائیل اورفلسطینی تحریک حماس کے مابین گزشتہ چھ ماہ سے جاری جنگ بندی معاہدے میں توسیع خطرے میں پڑ گئی ہے۔

default

حماس تحریک کے حامی غزہ پٹی کے نزدیک ایک مُظاہرہ کے دوران نعرے لگاتے ہوئے

مصر کی ثالثی سے چھ ماہ قبل طے پانےوالے جنگ بندی معاہدے کی مدت اٹھارہ دسمبر کو ختم ہورہی ہے۔

شام میں مقیم حماس کے رہنما خالد مشعال کا کہنا ہے کہ فلسطینی تحریک حماس اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی معاہدے میں توسیع نہیں کرے گی۔ دوسری جانب اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ اسرائیل یہ معاہدہ جاری رکھنے کا خواہاں ہے لیکن اگر غزہ پٹی کے علاقے سے عسکریت پسند فلسطینیوں کےحملے جاری رہیں تو یروشلم جوابی کارروائی میں تاخیر نہیں کرے گا۔

Hamas zu Gast in Moskau

شام میں مقیم حماس تحریک کے شعبہ سیاسیات کے سرپرست خالد مشعال نے غزہ فائر بندی معاہدے پر سخت موٴقف اختیار کر رکھا ہے

اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک کے مطابق اسرائیل غزہ میں طاقت کے استعمال سے خوفزدہ نہیں ہے مگر اسے کوئی جلدی بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاموشی کا جواب خاموشی سے دیا جائے گا لیکن اگرحالات کا تقاضا ہوا تووقت اور مقام کی مناسبت سے طاقت کا بھرپور استعمال بھی کیا جائے گا۔

دوسری جانب اپنے فلسطینی ہم منصب سلام فیاض کے ساتھ پیر کے روز ملاقات کے بعد برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن نے کل منگل کے روز اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد گورڈن براؤن نےمغربی کنارے کے علاقے میں یہودی آباد کاروں کے مسئلےکو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ گورڈن براؤن نے کہا کہ یہ مسئلہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے معاہدےکی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

Kämpfe im Gaza-Streifen

غزہ پٹی کے علاقے پر حماس کے عسکریت پسندوں کا مکمل کنٹرول ہے

برطانوی وزیر اعظم نےاپنے فلسطینی ہم منصب سلام فیاض سے ملاقات کے دوران ہی سال 2009 کو مشرق وسطیٰ کے لئے امن کا سال قرار دیا تھا۔ لندن میں فلسطینی تجارتی اور سرمایہ کاری فورم کے قیام کے موقع پرگورڈن براؤن نے غزہ میں سلامتی کی صورتحال کو مشکل قرار دیا۔

فلسطینی تجارتی اور سرمایہ کاری فورم کے قیام کوفلسطینی وزیراعظم سلام فیاض نے سنگ میل قرار دیا۔

Montage Gordon Brown Salam Fayyad und Ehud Olmert

دائیں سے بائیں: سلام فیاض، ایہود اولمرٹ اور گارڈن براوٴن

مشرق وسطیٰ میں قیام امن ہی کے سلسلے میں برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نےیہ توقع بھی ظاہر کی نو منتخب امریکی صدر باراک اوبامہ اپنا عہدہ سنبھالنےکے بعد مشرق وسطیٰ کے مسئلے کے حل کو اولین ترجیح دیں گے۔ ’’ یہ نہایت بدقسمتی کی بات ہے کہ غزہ میں سلامتی کی صورتحال انتہائی مشکل ہے اور اسرائیلی اس سے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔‘‘

ریاست سازی کی تشکیل کی راہ میں فلسطین کو مضبوط اوربہترین اداروں کی ضرورت ہوگی تاکہ یہ لوگوں کو ہرشعبہ زندگی میں بہتر سہولیات مہیاءکرنےکے ساتھ ساتھ بہتر کارکردگی کی حامل معیشت بن سکے۔ ایک ایسی معیشت جس میں نجی سیکٹر کو کام کرنےکا موقع مل سکے۔