1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیل اور پاکستان کے درمیان جعلی خبر سے جوہری کشیدگی

پاکستانی وزیردفاع خواجہ آصف نے ایک جعلی خبر کے رد عمل میں یہ دھمکی دی ہے کہ اگر اسرائیل نے پاکستان پر جوہری حملہ کیا، تو پاکستان اس کا بھرپور جواب دے گا۔

یہ معاملہ تب پیش آیا، جب ایک من گھڑت  خبر میں سابق اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ بیان سامنے آیا کہ ’’اگر پاکستانی فوج نے کسی حیلے بہانے سے شام میں اپنے بری فوجی دستے بھیجے ، تو اسرائیل پاکستان کوجوہری حملہ کرتے ہوئے برباد کر دے گا‘‘۔ یہ خبر تو جھوٹی تھی، تاہم اس کے جواب میں پاکستانی وزیردفاع خواجہ آصف نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں اسرائیل کو جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی۔

نیوز  ویب سائٹ’ اے ڈبلیو ڈی‘  اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ جھوٹی خبریں پھیلا چکی ہے۔ اس بار اس نے اسرائیل وزیردفاع کے نام سے ایک بیان جاری کر دیا، جس میں کہا گیا تھا، ’’اگر پاکستان نے اپنے زمینی فوجی دستے شام میں اتارے، تو ہم پاکستان کو جوہری حملہ کر کے تباہ کر دیں گے۔‘‘

اس کے جواب میں خواجہ آصف نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا، ’’سابق اسرائیلی وزیردفاع پاکستان کو شام میں داعش کے خلاف کردار پر جوہری حملے کی دھمکی دے رہے ہیں، مگر اسرائیل مت بھولے کہ پاکستان بھی جوہری طاقت ہے۔‘‘

خواجہ آصف کے اس بیان کے فوری بعد اسرائیل وزرات دفاع نے وضاحت جاری کی کہ اس طرز کا کوئی بیان اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے دیا ہی نہیں گیا تھا۔

اسرائیلی ٹوئٹر پیغام میں کہا گیا، ’’خواجہ آصف صاحب سابق وزیردفاع یالون نے کبھی ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔  پاکستانی وزیردفاع ایک جھوٹی خبر پر تبصرہ کر رہے ہیں۔‘‘

یہ بات اہم ہے کہ اسرائیل نے جوہری ہتھیاروں کے حامل ہونے یا نہ ہونے سے متعلق خبروں کی نہ تو کبھی تصدیق کی ہے اور نہ تردید، تاہم یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کا مالک ہے۔

دوسری جانب پاکستان نے سن 1998 میں اپنے جوہری تجربات کیے تھے اور ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان کے پاس قریب 120 ایٹم بم موجود ہیں، جب کہ وہ اپنے جوہری اثاثوں میں تیزی سے اضافہ بھی کر رہا ہے۔

بہت سے دیگر مسلم ممالک کی طرح پاکستان بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے نہیں ہیں۔

اس واقعے کے بعد خواجہ آصف کے بیان کا مزاق بھی اڑایا گیا ہے کہ کس طرح انہوں نے ایک جھوٹی خبر پر اپنی رائے دے دی۔

ایک ٹی وی صحافی نصرت جاوید نے تو اس حوالے سے یہ تک کہہ دیا، ’’ہمارا جوہری پروگرام ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اور اسے ٹوئٹر کے عادی سیاست دانوں سے دور رہنا چاہے۔‘‘

یہ بات اہم ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں جھوٹی خبروں کے حامل مضامین سوشل میڈیا پر بہت زیادہ دکھائی دینے لگے ہیں۔ گزشتہ ہفتے گوگل نے کہا گیا کہ وہ غیرمصدقہ خبروں کی حامل ویب سائٹس کو روکنے کے لیے اقدامات کرے گا۔