1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیل اور فلسطینیوں کا براہ راست مذاکرات سے انکار

مشرق وسطٰی کے حوالے سے چار فریقی گروپ کی امن مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔ اسرائیل اور فلسطینی رہنماؤں نے مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے انکار کر دیا ہے۔ تاہم یہ گروپ اس سلسلے میں پرامید ہے۔

default

چار فریقی گروپ کے مطابق گو کہ فریقین نے فوری طور پر براہ راست مکالمت شروع کرنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی تاہم اس تناظر میں معمولی سی پیش رفت ہوئی ہے۔ گروپ کے بقول اسرائیل اور فلسطینی حکام نے سلامتی کے علاوہ علاقائی نوعیت کے موضوعات پر اگلے تین ماہ کے اندر اندر اپنی تجاویز پیش کرنے کی حامی بھری ہے۔ فلسطینیوں اور اسرائیل کے مابین تنازعے کی بنیادی وجوہات بھی یہی ہیں۔ مشرق وسطٰی امن مذاکرات تین سال قبل اس وقت تعطل کا شکار ہو گئے تھے، جب فلسطینیوں نے اسرائیل سے یہودی بستیوں کی تعمیر کے منصوبوں کی فوری بندش کا مطالبہ کیا تھا۔ فلسطینیوں کے بقول غرب اردن اور مشرقی یروشلم کے علاقے پر اسرائیل نے زبردستی قبضہ کر رکھا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت تک کوئی بات چیت شروع نہیں کی جاسکتی، جب تک اس زمین پر، جہاں فلسطینی اپنی ایک آزاد اور خود مختار ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں، یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے۔

Nahost Israel Palästinenser Siedler Baustopp beendet

اس زمین پر، جہاں فلسطینی اپنی ایک آزاد اور خود مختار ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں، یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ روکنا ہو گا، فلسطینی انتظامیہ

مشرق وسطٰی میں قیام امن کے کے لیے چار کے گروپ میں امریکہ، یورپی یونین، اقوام متحدہ اور روس شامل ہیں۔ بدھ کو ہونے والے مذاکرات میں اس گروپ کے نمائندوں کے علاوہ مشرق وسطٰی کے لیے خصوصی مندوب اور سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر بھی شریک تھے۔ فلسطینی حکام نے اسرائیل کے ساتھ براہ راست بات چیت کرنے سے انکار کر دیا تھا، جس کی بناء پر یہ سلسلہ بالواسطہ طور پر مکمل کیا گیا۔

فلسطینی مذاکرات کار صائب ارکات نے بتایا کہ انہوں نے چار کے گروپ پر ایک مرتبہ پھر واضح کر دیا ہے کہ جیسے ہی اسرائیل اپنے تعمیراتی منصوبے روکے گا اور 1967ء کی جنگ سے پہلے تک کی سرحدوں کو تسلیم کر لے گا، فلسطینی مذاکرات کی میز پر واپس آ جائیں گے۔ اسرائیل ان دونوں ہی شرائط کو مسترد کرتا آیا ہے۔ اسرائیلی مؤقف یہ ہے کہ فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس جب چاہیں غیر مشروط طور پر بات چیت شروع کر سکتے ہیں۔

بدھ کو ہونے والی ملاقاتوں کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری کردہ ایک مختصر بیان میں کہا گیا کہ بات چیت میں مرکزی اہمیت براہ راست مذاکرات شروع کرنے کے موضوع کو ہی دی گئی اور مستقبل میں بھی اس طرح کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ دوسری جانب چہار فریقی گروپ کے بقول اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت جانچنے کے لیے اگلے مہینوں کے دوران بھی یہ ملاقاتیں ہوتی رہیں گی۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: مقبول ملک

DW.COM