اسرائیل اور سعودی عرب: مشرق وسطٰی میں نئے بہترین دوست؟ | معاشرہ | DW | 29.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اسرائیل اور سعودی عرب: مشرق وسطٰی میں نئے بہترین دوست؟

ایران سے خطرے کے گمان کی وجہ سے سعودی عرب اور اسرائیل نے سفارتی روابط کا ایک نیا باب کھول دیا ہے۔ اس پیش رفت سے مشرق وسطٰی میں سیاسی طاقت کا توازن مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔

نومبر کے وسط میں اسرائیلی افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف غادی ایزنکوت اس وقت ذرائع ابلاغ میں نظر آئے جب انہوں نے واضح انداز میں ایک جانب اسرائیل کے ایران کے ساتھ اور دوسری جانب سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بات کی۔ یہ باتیں انہوں نے ایک سعودی انٹرنیٹ ویب سائٹ ’ایلاف‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کیں۔ ایلاف کے سربراہ صحافی عثمان العمیر کے سعودی اخبار الشرق الوسط کی انتظامیہ سے بہت قریبی روابط ہیں اور یہ اخبار شاہ سلمان کی ملکیت ہے۔

غادی ایزنکوت نے بتایا کہ اسرائیل ایران کے خلاف خفیہ معلومات اور دیگر تفصیلات معتدل عرب ریاستوں کو مہیا کرنے پر تیار ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا اسرائیل سعودی عرب کو یہ معلومات فراہم کر چکا ہے؟ انہوں نے کہا، ’’ضرورت پڑنے پر ہم معلومات کے تبادلے پر تیار ہیں۔ ہمارے بہت سے مفادات مشترکہ ہیں۔‘‘ اس موقع پر انہوں نے بہت واضح انداز میں کہا کہ ’اسرائیل خطے میں ایران کو سب سے بڑے خطرے کے طور پر دیکھتا ہے‘۔

 

محتاط بیان بازی

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ یہ دونوں ممالک غیر سرکاری سطح پر ایک دوسرے کے حوالے سے بیان بازی میں کافی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف کا ایک سعودی ویب سائٹ کو انٹرویو دینا اسی امر کا ایک واضح ثبوت ہے۔ سعودی فوج کے ایک سابق جنرل انور اشکی بھی کچھ اسی طرح کے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔  انہوں نے زور دے کر کہا تھا کہ دونوں ممالک کے روابط ابھی تک صرف غیر رسمی تھے۔ اشکی جولائی میں یروشلم کا دورہ کرنے والے سعودی وفد کے سربراہ بھی تھے۔ اس وفد نے اسرائیلی پارلیمانی ارکان سے بھی ملاقات کی تھی۔

سعودی عرب کے ساتھ فضائی معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، اسرائیل

سعودی عرب ایران کی طاقت سے خبردار رہے، صدر روحانی

عراق اور سعودی عرب میں قربت سے ایران پر کیا اثر پڑے گا؟

 

مشرق وسطی پر اثرات؟

یہ ابھی غیر واضح ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کی قربت کے مشرق وسطٰی کے پورے خطے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے عرب دنیا فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی آئی ہے۔ تاریخی طور پر عراقی آمر صدام حسین اور شامی صدر بشارلاسد جیسے مطلق العنان حکمران اسرائیل دشمنی کو اپنے جابرانہ طرز حکومت کے جواز کے طور پر پیش کرتے رہے۔ ان کی جانب سے مسلسل بیان بازی نے عوامی رائے پر بہت گہرے اثرات مرتب کیے۔

’جمہوری محاذ برائے آزادی فلسطین‘ کے قیس عبدالکریم کے مطابق تاہم اسرائیل کی جانب سے سعودی عرب سے نئے روابط کے بارے میں بیان بازی صرف ذرائع ابلاغ تک ہی محدود رہے گی۔ ان کے بقول جب تک ریاض حکومت ان تعلقات کو تسلیم کرنے کا باقاعدہ اعلان نہیں کرے گی، اس وقت تک اسرائیل کے ساتھ اس کے روابط معمول پر آنے کا کوئی امکان نہیں۔

DW.COM