1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیل: انتخابات ہوگئے، سیاسی بے یقینی قائم

قادیمہ پارٹی کی زیپی لیونی اور دائیں بازو کی جماعت لیکوڈ پارٹی کے نتین یاہومیں سے کسی کو بھی واضح اکثریت حاصل نہیں ہو پائی۔

default

نتین یاہو اور زیپی لیونی ، دونوں ہی کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے حوالے سے بیانات کا سلسلہ جاری ہے

اسرائیل میں انتخابات کے بعد بھی اس سیاسی غیر یقینی کی ایک وجہ دونوں بڑی حریف جماعتوں کے قائدین کی جانب سے سامنے آنے والے وہ بیانات ہیں جن میں ان دونوں ہی رہنماؤں نے اپنی اپنی جماعتوں کی کامیابی کے دعوےٰکر دیئے تھے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ’’زپی لیونی زیادہ نشستوں پر کامیابی کے باوجود حکومت بنانے کے لئے دوسری جماعتوں کی حمایت کی متلاشی ہوں گی جو انہیں دستیاب ہونا مشکل ہے۔ دوسری جانب نتین یاہو کودیگر جماعتوں کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔ تاہم ان کی متوقع مخلوط حکومت کمزور اور غیر مؤثر ثابت ہوگی۔‘‘

Netanjahu nach Grad Raketeneinschlag in Aschkelon

نتین یاہو اپنی انتخابی مہم کے دوران

اسرائیل کے سب سے بڑے اخبار Yedioth Ahronoth میں شائع ہونے والی شہہ سرخی میں دونوں رہنماؤں کی تصاویر کے مقابل ایک ہی بیان درج تھا ’’فاتح میں ہوں‘‘۔

بعض تجزیہ نگاروں کی جانب سے یہ بھی درج تھا کہ ’’دونوں جماعتوں کی جیت کے ان دعووں سے لگتا ہے کہ اس بار اسرائیل ہار گیا‘‘۔ ایک اسرائیلی اخبار Eitan Haber میں آج بدھ کے روز کی سرخی ہے ’’ ایک چیز ہر اسرائیلی ووٹر پر عیاں ہو گئی ہے اور وہ یہ کہ ہمارا سیاسی نظام ٹوٹ چکا ہے۔‘‘

Schimon Peres in Jerusalem während der Gaza Offensive Januar 2009

اسرائیلی صدر شمون پیریز

اسرائیلی صدر شمون پیریز کو اب یہ فیصلہ کر نا ہے کہ لیونی یا نیتن یاہو میں سے کسے حکومت بنانے کی دعوت دی جائے۔ مگر اس صدارتی دعوت کے 42 روز کے اندر اندر پارلیمان میں اپنی اکثریت ثابت کرنا دونوں ہی کے لیے کچھ اتنا بھی آسان دکھائی نہیں دیتا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق صدر پیریز کے پاس صرف ایک ہی راستہ ہے کہ وہ نتین یاہو کو حکومت بنانے کی دعوت دے دیں کیوں کہ دائیں بازو کی تمام جماعتیں ان کی حمایت کر رہی ہیں۔ لیکن اگر ایسا ہوتا ہے تو اسرائیل کی 60 سالہ تاریخ میں ایسا پہلی بار ہو گا کہ الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے والی جماعت یعنی قادیمہ پارٹی اپوزیشن میں بیٹھے گی۔ کل 120 نشستوں پر ہونے والے ان انتخابات میں تقریبا آخری انتخابی نتیجے کے بعد قادیمہ پارٹی کی نشستوں کی تعداد 28 جب کہ لیکوڈ پارٹی کی نشستوں کی تعداد 27 ہے۔

Avigdor Lieberman Israel

Avigdor Lieberman کی جماعت Yisrael Beiteinu ، تیسری بڑی قوت بن کر سامنے آئی

زیپی لیونی کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم وہی ہوں گی اور وہ نتین یاہو کو دعوت دیں گی کہ ’ ایک حکومت‘ کا حصہ بنیں جب کہ نتین یاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے اگلے وزیر اعظم وہی ہوں گے اور وہ قوم پرستوں اور دائیں بازوں کی دیگر جماعتوں کے ساتھ ملک کر پارلیمان میں 64 نشستوں کے ذریعے اپنی اکثریت ثابت کر سکتے ہیں۔

یوروشلم کی عبرانی یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات سے وابستہ ابراہام ڈِسکِن کا کہنا ہے کہ’’ لیونی کے وزیر اعظم بننے کا امکان کم ہی ہے بلکہ یوں سمجھئیے کہ نہ ہونے کے برابر ہے۔‘‘ اسرائیلی انتخابات میں تیسری بڑی قوت ثابت ہونے والی Avigdor Lieberman کی جماعت Yisrael Beiteinu کے اس اعلان کے بعد کہ وہ ایک قوم پرست حکومت کا قیام چاہتے ہیں لیونی کے وزیر اعظم بننے کے امکانات اور بھی معدوم ہو گئے ہیں۔