1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیل: اذان پر پابندی کے قانونی بل کی پارلیمانی منظوری

اسرائیلی پارلیمان نے اذان پر پابندی کے بل کی منظوری دے دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی تمام اوقات میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ خلاف ورزی کرنے والے کو تقریباﹰ پونے تین لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

مجوزہ قانونی مسودے پارلیمان میں عرب اور یہودی قانون سازوں کے مابین شدید بحث کی وجہ بنے۔ پہلے بل کے مطابق رات گیارہ بجے سے صبح سات بجے تک لاؤڈ اسپیکرز پر اذان نہیں دی جا سکے گی۔

 اس بل کا تعلق فجر کی اذان سے ہے۔ دوسری تجویز کے تحت تمام رہائشی علاقوں میں لاؤڈ اسپیکروں کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈھائی ہزار یورو سے زائد کے برابر تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔ اس پابندی کا اطلاق بیت المقدس پر نہیں ہو گا۔

اسرائیلی مساجد میں لاؤڈ اسپیکرز کے ذریعے اذان دینے پر پابندی کی حمایت ملکی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی طرف سے بھی کی گئی ہے۔ وزیر اعظم نے اس تجویز کو ’زندگی کے معیار‘ کو بہتر بنانے کی کوششوں قرار دیا تھا لیکن اسرائیل کی عرب مسلم اقلیت میں یہ احساس تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے کہ انہیں امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔

اس بل کی حمایت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ آج کل فجر کی اذان صبح پانچ بجے کے قریب ہوتی ہے اور مساجد کے قریب رہائش پذیر یہودیوں کی نیند میں خلل پڑتا ہے۔  اس بل کی حمایت کرنے والی ایک مذہبی جماعت کے قوم پرست یہودی قانون ساز کا وضاحت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس مسودہ قانون کے ذریعے مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز کو ہدف بنایا جائے گا۔ اسی وجہ سے اس بل کو ’موذن بل‘ بھی کہا جا رہا ہے۔

اسرائیلی پارلیمان میں عرب سیاسی جماعتوں کے سربراہ ایمن عودہ کا کہنا تھا، ’’نماز کے لیے اذان نسل پرستوں سے پہلے بھی تھی اور یہ نسل پرستوں کے بعد بھی رہے گی۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 02:32

اسرائیل میں اذان کی بلند آواز ایک مسئلہ؟

Audios and videos on the topic