اسرائیل آباد کاری کی پالیسی فوری طور پر روک دے، یورپی پارلیمان | حالات حاضرہ | DW | 18.05.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیل آباد کاری کی پالیسی فوری طور پر روک دے، یورپی پارلیمان

یورپی پارلیمان نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کے قیام کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سٹراس برگ میں زیادہ تر اراکینِ پارلیمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو فوری طور پر آباد کاری کا سلسلہ بند کر دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے یورپی یونین مزید واضح کردار ادا کرے گی۔ قبل ازیں اسی طرح کی ایک قرار داد سلامتی کونسل میں منظور کی گئی تھی، جس کے بعد امریکا اور اسرائیل کے مابین تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔

سن 1993 میں اسرائیل اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن یا پی ایل او نے ایک دوسرے کو تسلیم کر لیا تھا لیکن ایک آزاد فلسطینی ریاست آج تک قائم نہیں ہو سکی ہے۔ یورپی پارلیمان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ علاقوں میں قائم کی گئیں یہودی بستیاں عالمی قوانین کے مطابق غیر قانونی ہیں اور ان کی وجہ سے امن عمل متاثر ہو رہا ہے۔ یورپی پارلیمان نے کہا ہے کہ پائیدار امن کا صرف ایک ہی حل ہے اور وہ یہ کہ یروشلم کو دونوں ریاستوں کا دارالحکومت بنایا جائے۔

اسرائیل کے خلاف احتجاج، مصنوعات پر مختلف لیبل لگیں گے

دوسری جانب ایک اسرائیلی آبادکار نے فائرنگ کرتے ہوئے ایک 23 سالہ فلسطینی نوجوان کو ہلاک کر دیا۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی آبادکار نے اس وقت فائرنگ کی، جب فلسطینی احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے۔

 اس واقعے میں ایک صحافی ہاتھ پر گولی لگنے سے زخمی بھی ہوا۔ فلسطینی مظاہرین اُس سڑک کو بلاک کرنے کی کوشش میں تھے، جو مقبوضہ علاقے میں یہودی آبادکاروں کے زیرِ استعمال ہے۔ اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان کے مطابق فلسطینی مظاہرین سڑک سے گزرنے والی گاڑیوں پر پتھراؤ جاری رکھے ہوئے تھے۔

DW.COM