1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

اسرائیلی ہدایت کار کی فلم فارسی میں کیوں؟

ایران کی سیاسی و مذہبی قیادت تواتر سے اسرائیل مخالف بیانات دیتی چلی آ رہی ہے۔ اسی طرح اسرائیل بھی ایران پر فوجی حملوں کی دھمکی دیتا رہتا ہے۔ مگر ایک اسرائیلی ہدایت کار نے فارسی زبان میں فلم بنا کر سب کو حیران کردیا ہے۔

ایران میں پیدا ہونے والے اسرائیلی ہدایت کار یووال دل شاد نے فارسی زبان میں ایک فلم مکمل کر کے فارسی بولنے والے شائقین کو حیران کر دیا ہے۔ اسرائیل میں تیار کی جانے والی فارسی زبان کی فلم کا نام ’بابا جُون‘ ہے۔ اِس فیچر فلم میں ایک ایرانی یہودی خاندان کی اسرائیل میں آبادکاری کے بعد کی زندگی کو فلمایا گیا ہے۔ یہ فلم کسی بھی لحاظ سے کوئی سیاسی فلم نہیں ہے، بلکہ اِسے ایک معاشرتی ڈراما قرار دیا گیا ہے۔

فلم ’بابا جون‘ کو اسرائیل میں فلمی ناقدین نے بہت زیادہ سراہا ہے۔

اِس فلم میں دادا اور اُس کا بیٹا اپنے پوتے کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتے ہیں لیکن اُن کے خواب جدا جدا ہیں۔ فلم میں بابا جون کا پوتا موتی اپنے باپ اسحاق کے اصولوں کے خلاف جوان ہوتے ہی ایک طرح کی بغاوت کر دیتا ہے۔ تیرہ برس کے موتی کا کردار اسرائیلی اداکار عاشر ابراہیمی نے ادا کیا ہے۔ عاشر کے والدین بھی ایران سے مہاجرت کر کے اسرائیل میں آباد ہوئے ہیں۔

Filmszene Baba Joon Israel

فلم ’بابا جون‘ کو اسرائیل میں فلمی ناقدین نے بہت زیادہ سراہا ہے۔

اِس فلم میں ایک مرتبہ بھی اسرائیل کا نام نہیں لیا گیا۔ ایک مقام پر چند عبرانی زبان کے جملے ضرور شامل ہیں تا کہ فلم کے محلِ وقوع کا اندازہ لگایا جا سکے۔ نیوز ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ہدایت کار دل شاد کا کہنا تھا کہ فلم کی عکاسی کے دوران تمام اداکار فارسی ثقافت اور موسقی سے لطف انداوز ہوتے ہوئے ایک خاندان میں ڈھل گئے تھے۔ فلم کی لوکیشن کے انتخاب کے حوالے سے دل شاد نے اسرائیل کے کئی علاقوں میں اپنی موٹر سائیکل پر کئی کئی گھنٹے سفر کیا۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کو دل شاد نے بتایا کہ اُن کی فلم کی ایران میں نمائش ممکن ہے اور وہ یقین رکھتے ہیں کہ ایک دن ایران جانے کی خواہش کی بھی پوری ہو جائے گی۔

فلم کا اہم کردارنوید نگہبان نے ادا کیا ہے جو امریکی ایرانی اداکار ہیں۔ اِس فلم میں ایک اور ایرانی امریکی اداکار ڈیوڈ دیان نے بھی اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔ دوسرے اداکاروں میں عاشر ابراہیمی اور الیاس رفائل نمایاں ہیں۔ فلم کو دل شاد نے ہی تحریر کیا ہے۔

Filmszene Baba Joon Israel

یہ فلم کسی بھی لحاظ سے کوئی سیاسی فلم نہیں ہے

اسرائیل میں اِس فلم کو رواں برس ستمبر میں عام نمائش کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ بابا جون کو اسرائیلی اکیڈیمی برائے فلم اور ٹیلی وژن کے قائم کردہ اوفیر ایوارڈز میں رواں برس کی بہترین فلم قرار دیا گیا۔ اوفیر ایوارڈز اسرائیلی آسکر ایوارڈز قرار دیے جاتے ہیں۔

یہ فلم رواں برس کینیڈا میں منعقد ہونے والے انٹرنینشل ٹورانٹو فلم فیسٹیول میں بھی پیش کی گئی تھی۔ اِس فلمی میلے میں یہ فلم ’’عصر حاضر کے نمائندہ سینما‘‘ کی کیٹگری میں رکھی گئی تھی۔ یووال دل شاد کی فلم کی عالمی پذیرائی کے تناظر میں خیال کیا جا رہا تھا کہ اِس کو اگلے برس فروری میں منعقد کیے جانے والے آسکر ایوارڈز میں ’’بہترین غیرملکی زبان کی فلم کیٹگری‘‘ کے لیے اسرائیلی حکام نامزد کر دیں گے۔ مگر ایسا ممکن نہیں ہو سکا، اور اندازوں کے برعکس اِسے یہ نامزدگی نہیں دی گئی۔ فلم کا دورانیہ اکانوے منٹ ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ سن 1979 کے اسلامی انقلاب سے قبل ایران میں اسی ہزار سے لے کر ایک لاکھ تک یہودی ایران کے بڑے شہروں تہران، اصفہان اور مشہد میں آباد تھے۔ بعد میں وہ بتدریج امریکا اور اسرائیل منتقل ہوتے چلے گئے۔ اِس وقت تقریباً نوہزار کے قریب یہودی ایران میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔