1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیلی وزیر فلسطینی حملہ آوروں کے مکان منہدم کرنے کے حامی

اسرائیلی وزیردفاع ایویگدور لیبرمن نے اتوار کو کہا ہے کہ وہ جان لیوا حملوں میں ملوث فلسطینیوں کے مکانات گرانے کی پالیسی میں توسیع چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلوں کو شدید زخمی کرنے والوں کے مکانات بھی گرانا چاہیئیں۔

سخت گیر موقف کے حامل سمجھے جانے والے اسرائیلی وزیردفاع ایویگدور لیبرمن نے اتوار کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ ایسے فلسطینی جو اسرائیلی شہریوں پر جان لیوا حملوں میں ملوث ہوں ان کے مکانات کے ساتھ ساتھ ایسے حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے مکانات بھی منہدم کرنے چاہیئیں، جو اسرائیلی شہریوں کو شدید زخمی کرتے ہیں۔

فلسطینی حملہ آور کی فائرنگ کے نتیجے میں تین اسرائیلی ہلاک

’فائرنگ کا واقعہ‘ مسجد اقصیٰ میں جمعے کی نماز نہیں ہو گی

یروشلم میں ایک اور فلسطینی حملہ آور ہلاک کر دیا گیا

لیبرمان کے بیان کے مطابق فوج اور وزارت دفاع کو احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ ’وہ اسرائیلی شہریوں کو زخمی کرنے والے دہشت گردانہ حملوں میں ملوث فلسطینیوں کے مکانات کے انہدام کے امکانات کا بھی جائزہ لیں۔‘‘

ان کی جانب سے بیان میں مزید کہا گیا ہے، ’’خون ریز کارروائیاں کرنے والے دہشت گردوں کے مکانات کا انہدام ایک آزمودہ اور کارگر نسخہ ہے، جس کے ذریعے دہشت گردی اور اس کی منصوبہ بندی کا انسداد ممکن ہے۔‘‘

لیبرمن کے مطابق، ’’کوئی ایسا حملہ جس میں کوئی قتل ہو اور کوئی ایسا حملہ جو کسی شخص کو شدید زخمی کرنے کا موجب بنے، دونوں میں کوئی فرق نہیں رکھا جانا چاہیے۔ دونوں صورتوں میں دہشت گردوں کے مکانات گرا دیے جائیں۔‘‘

اسرائیل کا موقف ہے کہ حملہ آوروں کے مکانات کے انہدام کی پالیسی سن 1967 سے جاری ہے اور اس سے مستقبل میں حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو روکا جا سکتا ہے۔

تاہم دوسری جانب  اس پالیسی پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ اجتماعی سزا کی ایک قسم ہے، جس میں کسی گھرانے کے ایک فرد کے جرم کی سزا پورے خاندان کو دی جاتی ہے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہے۔

ناقدین یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ اس پالیسی سے کس طرح حملوں کا سدباب ہوا ہے کیوں کہ ایسے اقدامات سے مزید اشتعال پھیلتا ہے، جو مزید حملہ آوروں کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتا ہے۔

 

DW.COM