اسرائیلی وزیر اعظم بدعنوانی کے الزامات کی زد میں | حالات حاضرہ | DW | 14.02.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیلی وزیر اعظم بدعنوانی کے الزامات کی زد میں

اسرائیلی پولیس نے ملکی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے خلاف رشوت ستانی اور دھوکہ دہی میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزامات عائد کرتے ہوئے ان پر مقدمہ چلانے کا اشارہ دیا ہے۔

وزیر اعظم نیتن یاہو نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کے ان کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں اور وہ اپنے عہدے پر قائم رہنے کا عہد کرتے ہیں۔ عوام سے کیے جانے والے ٹیلی وژن خطاب میں ان کا مزید کہنا تھا انہیں یقین ہے کہ سچائی ایک دن ضرور سامنے آئے گی۔

پولیس کی جانب سے اسرائیلی وزیر اعظم کے خلاف مقدمہ چلانے کی سفارش ان کے خلاف ایک سال سے جاری تحقیقات کی روشنی میں کی گئی ہے۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے آسٹریلیوی ارب پتی جیمز پیکر اور ہالی وڈ کی شخصیت ارون میلچین کی جانب سے تقریباً تین لاکھ ڈالر مالیت کے تحائف وصول کیے ہیں۔ ان تحائف میں قیمتی سگار اور شیمپین شامل ہیں۔ ان تحائف کے بدلے میں انہوں نے 'ملچین قانون' کی حمایت کی جس کے مطابق جو اسرائیلی بیرون ملک سے اسرائیل میں رہنے کے لیے آئے ہیں، انہیں دس سال تک ٹیکس کی ادائیگی سے استثنی حاصل ہوگا تاہم اس تجویز کو وزارت معیشت کی جانب سے روک دیا گیا۔ ان پر ایک الزام اور بھی ہے کہ انہوں نے ایک اسرائیلی اخبار کو مثبت کوریج کی ہداہت کی تھی۔

Tony Blair mit dem palästinensischen Presidenten Mahmoud Abbas (AP)

نیتن یاہو نے صورتحال بگڑنے کی دھمکی دے دی

بینجمن نیتن یاہو پر کرپشن الزامات عائد ہو سکتے ہیں، عدالت

پولیس کی جانب سے اسرائیلی وزیر اعظم کے خلاف تیار کی جانے والی سفارشات اٹارنی جنرل کو بھجوائی جا رہی ہیں جو تمام ثبوتوں کا معائنہ کرنے کے بعد فیصلہ کریں گے کہ نیتن یاہو کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے یا نہیں۔کہا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ چند مہینوں میں کیا جائے گا اور اس تمام عرصہ میں اسرائیلی وزیر اعظم اپنے منصب پر قائم رہیں گے۔ 

یاد رہے کہ اب سے ایک دہائی قبل کچھ ایسے ہی حالات اس وقت کے وزیر اعظم ایہود اولمرٹ کے سامنے بھی تھے جنہیں پولیس تحقیقات کا سامنا تھا۔ اس وقت نیتن یاہو اپوزیشن لیڈر تھے جنہوں نے وزیر اعظم پر زور دیا کہ انہیں پولیس کی جانب سے سخت تحقیقات کا سامنا ہے لہذا انہیں فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفیٰ ہو جانا چاہئے۔ 

DW.COM