1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیلی وزیراعظم فلسطینی ریاست کے قیام کے خلاف، وزیر

اسرائیلی کابینہ کے ایک سینیئر وزیر کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو نے فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کی ہے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ امریکی صدر کے ساتھ ملاقات میں اس بات کا عوامی سطح پر اعلان کیا جائے گا یا نہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو آئندہ بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ اس سے پہلے ایسی خبریں منظر عام پر آئی ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کرتے ہوئے نئی شرائط پیش کریں گے۔

اسرائیل میں عوامی سکیورٹی کے وزیر گیلاد ایردن کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم فلسطینی ریاست کے قیام کے خلاف ہیں۔ تاہم گیلاد ایردن کے اس بیان کے حوالے سے اسرائیلی وزیراعظم کا کوئی ردعمل ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

گیلاد ایردن کا تعلق اسرائیلی وزیراعطم کی دائیں بازو کی جماعت لیکوڈ پارٹی سے ہے اور اس جماعت کے زیادہ تر اراکین کا موقف وزیراعظم کے مقابلے میں زیادہ سخت تصور کیا جاتا ہے۔ اتوار کے روز ملکی وزیراعظم سے ملاقات کرنے کے بعد ملٹری ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے اس وزیر کا کہنا تھا، ’’میرے خیال سے سکیورٹی کابینہ کے تمام اراکین اور سب سے اہم وزیراعظم ایک فلسطینی ریاست کے مخالف ہیں۔‘‘

اسرائیل نے آباد کاری کے متنازعہ قانون کی منظوری دے دی

اپنے انٹرویو میں ان کا مزید کہنا تھا، ’’کوئی بھی یہ نہیں سوچتا کہ آئندہ کچھ برسوں میں فلسطینی ریاست، خدا نہ کرے، بن سکتی ہے یا کچھ ہو سکتا ہے۔‘‘ اس سوال کے جواب میں کہ آیا اسرائیلی وزیراعظم ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں اس طرح کا کوئی اعلان کر سکتے ہیں، تو ان کا کہنا تھا، ’’کوئی نہیں جانتا کہ وزیراعظم اور ان کا سٹاف کونسا موقف اختیار کریں گے۔‘‘

فلسطینی مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ پٹی کے ساتھ ساتھ مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بناتے ہوئے ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام چاہتے ہیں۔ اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں ان علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ اسرائیل نے سن دو ہزار پانچ میں غزہ سے اپنے فوجیوں اور آبادکاروں کو نکال لیا تھا۔

اسرائیلی وزیر کے اس بیان کے بعد فلسطین لبریشن آرگنائزیشن ( پی ایل او) کے ایک عہدیدار کا نیوز ایجنسی روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’صرف بیان ہی نہیں بلکہ اسرائیل میں انتہائی دائیں بازو نے ایسے اقدامات کیے ہیں، جو ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔‘‘

نئے امریکی صدر کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اسرائیل چھ ہزار نئے رہائشی یونٹس کی تعمیر کی اجازت دے چکا ہے۔ گزشتہ ماہ ایک اسرائیلی اخبار نے یہ خبر شائع کی تھی کی بند دروازوں کے پیچھے وزراء کے ایک اجلاس میں نیتن یاہو نے ایک نئی ٹرم ’فلسطینی ریاست مائنس‘ متعارف کروائی ہے، جس کے تحت وہ فلسطینیوں کو محدود خود مختاری فراہم کرنے کی بات کرتے ہیں۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات