1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اسرائیلی مسلمانوں کو خاندانی ملاپ کے مسائل کا سامنا

ثناء کا تعلق مغربی کنارے آباد شہر ہبرون سے ہے۔ اس نے جب 13سال قبل مشرقی یروشلم کے رہائشی محمد نامی شخص سے شادی کی۔ تو اسے اس امر کا اندازہ ہی نہیں تھا کہ ان کے ملاپ کے بعد انہیں خوف کے سائے میں زندگی گزرانی پڑے گی۔

default

اسرائیل کے مختلف علاقوں میں رہائش پذیر مسلمان جوڑوں کے ملاپ کی راہ میں رہائشی اجازت نامے کا حصول ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

ثناء اور اس کے شوہر دونوں کےرہائشی اجازت نامے مختلف تھے۔ اس کے پاس مغربی کنارے کا اجازت نامہ تھا اور اس کے شوہر کے پاس مشرقی یروشلم کا۔ وہ عارضی اجازت نامے کے ساتھ باآسانی اپنے شوہر کے ساتھ مشرقی یروشلم میں ایک ساتھ رہ سکتی تھی۔ تاہم 2000ء میں جب دوسری بار اسرائیل کے خلاف جب فلسطینیوں نے اپنی تحریک شروع کی تو سفری پابندیوں کو آہستہ آہستہ سخت کر دیا گیا اور یہ سلسلہ 2003ء تک جاری رہا۔ اسرائیل نے فلسطینیوں کو مشرقی یروشلم کے رہائشی اجازت نامے دینا بند کر دیے اور پناء اور اس کا شوہر ایک نئی پریشانی میں پھنس گئے۔

اسرائیلی پرمٹ کے بغیر ثناء یروشلم میں اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ نہیں رہ سکتی تھی اور خطرہ تھا کہ اگر محمد مغربی کنارے منتقل ہو جاتا ہے تو وہ اپنی اسرائیلی شہریت کھو سکتا ہے۔ اس طرح اس کا اس کے آبائی شہر سے ہر قسم کا رابطہ ٹوٹ جاتا۔ فلسطینوں کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے سے منتقل ہوکر مشرقی یروشلم کا رہائشی اجازت نامہ حاصل کرنا ہمیشہ سے ہی بہت مشکل تھا۔ لیکن 2003ء کے بعد اسرائیل نے ہنگامی اقدامات کرتے ہوئے خاندانی ملاپ کا نظام ہی ختم کر دیا۔ تقریباً اسی دوران اسرائیل نے مغربی کنارے کے گرد بڑی بڑی دیواریں اور رکاوٹیں تعمیر کرنا شروع کر دی۔ اس طرح مغربی کنارہ دوسرے دیگر مقبوضہ علاقوں سے کٹ گیا بلکہ یروشلم میں داخل ہونا انتہائی مشکل ہو گیا۔

Israelische Polizisten verhaften pro-palästinensische Aktivisten in Tel Aviv

اسرائیلی پولیس اہلکار فلسطین کے حامی ایک سرگرم کارکن کو گرفتار کر رہے ہیں۔

2005ء مین ثناء کو یروشیلم میں اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ رہنے کا پرمٹ ختم ہو گیا اور اسے یروشلم چھوڑنے کا کہا گیا۔ ثناء نے بتایا کہ اس وقت سے اب تک وہ اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ ےغیر قانونی طریقے سے رہائش پذیر ہے۔’’ اس وقت میں نے کچھ عرصے کے یروشلم چھوڑ دیا اور پھر میں چھپ کر دوبارہ یہاں آ گئی۔‘‘ ثناء کا کہنا ہے کہ مسلسل خوف اس کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن گیا ہے۔ وہ باہر نکلنے سے گھبراتی ہے اگر کوئی پولیس اہلکار اس کے سامنے آ جائے تو وہ چہرہ چھپا کر گزرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ’’ میں بہت کم ہی گھر سے باہر جاتی ہوں۔ ڈاکٹر کے پاس جانا ہو، یا بچوں کے اسکول تو باہر نکلتی ہوں۔

اسرائیلی سیکورٹی فورسز اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپیں معمول بن چکی ہیں۔

عرب اسرائیل حقوق تنظیم کے بانی حسن جابرین کا کہنا ہے کہ 2003ء کے بعد سے کافی لوگوں ثناء کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس بارے میں ایک قانون پاس کیا گیا تھا کہ اگر کوئی بھی اسرائیلی ایران، شام، یا لبنان کے شہری کے ساتھ شادی کرے گا تو وہ اپنی فمیلی کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ 2006ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیل نے خاندانی ملاپ کی120،000 سے زیادہ درخواستوں پر عملدرآمد کر نے سے انکار کر دیا تھا۔

رپورٹ : سائرہ ذوالفقار

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM