1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیلی فوج کی کارروائی، تین فلسطینی ہلاک

غزہ پٹی کے قریب اسرائیلی ٹینکوں کی فائرنگ سے تین فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔ قبل ازیں غزہ سے انتہاپسندوں نے اسرائیلی علاقے پر راکٹ فائر کرنے کی ذمہ داری بھی قبول کی، جس کے بعد اسرائیل نے یہ حملہ کیا۔

default

فلسطینی میڈیکل سروسز کے ایک ترجمان نے خبررساں ادارے AFP کو بتایا کہ اسرائیلی شیلنگ کے نتیجے میں ایک 91 سالہ سکیورٹی گارڈ ابراہیم عبداللہ، اس کا 17 سالہ نواسہ اور 20 سالہ ایک اور نوجوان ہلاک ہوا۔

اسرائیلی فوج نے اس حملے کی تصدیق کی ہے۔ میڈیکل سروسز کے ترجمان کے مطابق یہ کارروائی بیت حنون کے علاقے میں کی گئی، جو اسرائیل اور شدت پسند جماعت حماس کے زیرانتظام غزہ کی سرحد کے قریب واقع ہے۔

اے ایف پی نے عینی شاہدوں کے حوالے سے بتایا کہ ٹینکوں کی فائرنگ سے قبل بارڈر زون پر ایک دھماکے کی آواز سنی گئی۔ بعدازاں پاپولر ریزیسٹنس کمیٹیز کے عسکری ونگ نے اسرائیلی علاقے پر راکٹ اور مارٹر فائر کرنے کی ذمہ داری قبول کی۔ انہوں نے ایک اعلامیے میں کہا، ’الناصر صلاح الدین بریگیڈز نے اتوار کی شام کامیابی سے دو راکٹ اور ایک مارٹر فائر کیا ہے۔‘

اعلامیے میں کہا گیا، ’ہمارے ہیرو مشن مکمل کرنے کے بعد اپنے بیس پر محفوظ واپس پہنچ گئے ہیں۔‘

یہ بھی کہا گیا کہ یہ حملے غزہ کے شہریوں پر اسرائیلی حملوں کا جواب ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے فوجیوں نے راکٹ فائر کرنے والے متعدد مشتبہ افراد کی نشاندہی کرتے ہوئے ان پر فائر کیا اور وہ بظاہر نشانہ بنے۔

فوج کے اعلامیے کے مطابق اتوار کو بھی اسی علاقے میں متعدد مشتبہ افراد نے سکیورٹی رکاوٹ کے قریب آنے کی کوشش کی، جس پر انہیں خبردار کرنے کے لئے فائرنگ کی گئی۔

اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) نے ایک اعلامیے میں کہا کہ ان کی فورسز تندہی سے اپنے شہریوں کی حفاظت کر رہی ہیں اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرتی رہیں گی۔ آئی ڈی ایف غزہ سے اسرائیلی علاقوں پر حملوں کے لئے حماس کو ہی ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔

تاہم اس اعلامیے میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ کا نشانہ کتنے مشتبہ افراد بنے۔ نہ ہی اس حوالے سے مزید تفصیلات دی گئیں۔ غزہ پٹی سے گزشتہ ہفتے کے دوران اسرائیلی علاقوں پر کم از کم سات راکٹ اور مارٹر فائر کئے جا چکے ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس