1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اسرائیلی فوج کا ملکی میڈیا پر کس قدر کنٹرول ہے؟

اردن میں واقع اسرائیلی سفارت خانے پر حملے کے چند گھنٹے بعد تک اسرائیل کے مقامی میڈیا میں اس حملے سے متعلق معلومات حاصل کرنا ناممکن تھا۔ سوال یہ ہے کہ اس ملک میں خبروں کو سینسر کیوں کیا جاتا ہے؟

اتوار کی شام کو اردن کے دارالحکومت عمان میں واقع اسرائیلی سفارت خانے میں پیش آنے والے ایک پرتشدد واقعے میں اردن کے دو شہری ہلاک جبکہ سفارت خانے کا ایک اسرائیلی محافظ زخمی ہو گیا تھا۔ اسرائیل کے مقامی ذرائع ابلاغ میں اس واقعے کے گھنٹوں بعد تک بھی کوئی خبر پڑھنا ناممکن تھا اور اس کی وجہ مبینہ طور پر فوج کی طرف سے جاری کردہ احکامات تھے۔

اسرائیل کے تمام میڈیا اداروں کے لیے ملٹری سینسرشپ پر عمل کرنا ضروری ہے اور ابتدائی طور پر اسرائیلی ملٹری سینسر نے عمان میں ہونے والے اس واقعے سے متعلق رپورٹنگ کرنے کی اجازت ہی نہیں دی تھی۔ ایک مخصوص واٹس اپ گروپ میں صحافیوں کو یہ بتایا گیا کہ ’’حکومت نے اس وجہ سے اس خبر کو جاری نہ کرنے کا کہا ہے تاکہ سفارت خانے کے تمام عملے کو پہلے وہاں سے بحفاظت نکال لیا جائے۔‘‘

Symbolbild Zeitungen in Israel (Getty Images/D. Silverman)

اسرائیل کے بہت سے لوگوں کے لیے فوجی سینسرشپ مثالی تو نہیں ہے لیکن یہ غیرمناسب بھی نہیں ہے

چونکہ بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اسرائیلی سینسر شپ کی ہدایات پر عمل کرنے کے ذمہ دار نہیں ہیں اور اس طرح بہت سے غیرملکی میڈیا چینلز پر یہ خبر آ گئی تھی۔ تاہم بہت سے اسرائیلیوں نے اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر حکومتی سینسر شپ کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اسرائیلی حکومتی موقف کے مطابق فرنیچر تبدیل کرنے کے لیے آنے والے ایک شخص نے محافظ پر پیچ کس سے حملہ کیا تھا اور جوابی کارروائی میں دو اردنی شہری ہلاک ہو گئے۔ دوسری جانب اردن کا کہنا تھا کہ اردن کے شہری نے حملہ نہیں کیا تھا بلکہ دونوں کے مابین بحث کے بعد اسرائیلی محافظ نے فائرنگ کر دی۔

ایسا کوئی عدالتی حکم تو نہیں ہے کہ تمام اسرائیلی میڈیا اداروں کو اسرائیلی ملٹری سینسر کے احکامات ماننے ہیں لیکن اس کے باوجود اسرائیل کے تمام میڈیا ادارے سکیورٹی ایشوز کے حوالے سے اسرائیلی فوج کے اس ادارے کے ساتھ مل کر کام کرنے کے پابند ہیں۔

اسرائیل کے بہت سے لوگوں کے لیے فوجی سینسرشپ مثالی تو نہیں ہے لیکن یہ غیرمناسب بھی نہیں ہے۔ اسرائیل کے ایک ویڈیو پروڈیوسر ایویتار کوہن کا ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’مجھے نہیں معلوم کہ اس حوالے سے کوئی سینسرشپ احکامات تھے۔ اصولی طور پر میں عوام تک اطلاعات پہنچانے کے حق میں ہوں لیکن اگر کسی کی جان کو خطرہ ہو تو میں سینسرشپ یا خبر دبانے کے سرعام احکامات کی حمایت کروں گا۔‘‘

دوسری جانب تل ابیب میں بین الاقوامی تعلقات کی ایک طالبہ ڈفنا لاوی اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ ایک ناقابل قبول عذر ہے، ’’میں سمجھتی ہوں کہ بعض اوقات لوگوں کی زندگیوں کو خطرہ ہوتا ہے لیکن ایمانداری سے بات کی جائے تو سوشل میڈیا کے دور میں یہ بات بے وقعت لگتی ہے۔‘‘

اس کا مزید کہنا تھا، ’’ہم سب کو بین الاقوامی میڈیا سے نوٹیفیکیشن موصول ہوتے ہیں۔ ہم سب کے پاس ٹوئٹر اور فیس بک ہے، اب ایسا نہیں ہے کہ لوگوں تک معلومات نہیں پہنچیں گی۔‘‘  ڈفنا لاوی اس حوالے سے مزید کہتی ہیں، ’’ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ پرانے زمانے کی طرح اسرائیل اپنی طاقت معلومات کو سینسر کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ حقیقت میں اسرائیل کو اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ ایسی صورتحال کا مقابلہ ملٹری سینسرشپ یا پھر معلومات دبانے کے حکم نامے کے بغیر کر سکے۔‘‘

ڈفنا لاوی کا اس حوالے سے مغرب کا حوالہ دیتے ہوئے کہنا تھا، ’’مغربی ممالک میں اس طرح نہیں ہے اور ہمیں بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے۔‘‘