1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اسرائیلی فوجی کی رہائی کے لئے اہم پیش رفت

اسرائیلی فوجی گیلاد شالت کی رہائی کے سلسلے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے سے متعلق مذاکرات اپنے اہم ترین مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

default

گیلاد شالت کو تین سال پہلے اغواء کیا گیا

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور ان کی کابینہ میں شامل چھ اہم وزراء نے پیر اور منگل کی درمیانی شب اسرائیل کے ایماء پر ثالثی کوششیں کرنے والے نمائندے چاگائی حاداس کو یہ ہدایت کی کہ گیلاد شالت کی رہائی کے لئے حماس کے ساتھ جاری بالواسطہ مذاکرات میں جلد از جلد کوئی فیصلہ کن پیش رفت ہونا چاہیے۔

اس اسرائیلی فوجی کو 25 جون دو ہزار چھ کے روز فلسطینی شدت پسندوں نے اغواء کر لیا تھا۔ عسکریت پسند فلسطینی تنظیم حماس نے 23 سالہ گیلاد شالت کی رہائی کے بدلے مختلف اسرائیلی جیلوں میں قید ایک ہزار فلسطینیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

Israel Gaza Palästinenser Hamas Pressekonferenz Gilad Schalit

حماس کے ارکان شالت کے بارے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے

اسرائیل اور حماس کے مابین قیدیوں کے تبادلے کے لئے اس مذاکراتی عمل میں مصر اور جرمنی دونوں ہی ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شالت کی رہائی اور اس کے بدلے میں فلسطینی قیدیوں کو ملنے والی ممکنہ آزادی سے مشرق وسطیٰ کے سیاسی حالات میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ پیش رفت حماس کے زیر انتظام غزہ پٹی کے اسرائیلی محاصرے کے خاتمے یا اس میں نرمی کا باعث بھی بنے۔

کئی تجزیہ نگار یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر ایسا ہوا تو اس محاصرے کی وجہ سے فلسطینیوں کو درپیش مشکلات اور صعوبتیں کم کرنے میں بھی بڑی مدد ملے گی۔وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کی کابینہ کے چھ ارکان کے درمیان تفصیلی مشاورت ہی کے پس منظر میں اسرائیلی اخبار Haaretz نے لکھا ہے کہ اسرائیل بنیادی طور پر حماس کے ساتھ فلسطینی قیدیوں کے تبادلے پر تیار ہے، لیکن ایک متنازعہ مسئلہ ایسے عسکریت پسند فلسطینی کمانڈروں کی رہائی کا ہے،جو اسرائیل یا اس کے شہریوں پر حملوں میں ملوث رہے ہیں۔

Israel Gaza Palästinenser Gefangenenaustausch Video Gilad Schalit

اسرائیلی فوجی کی ویڈیو مہیا کئے جانے کے بدلےبھی کئی فلسطینی قیدی رہا کئے گئے تھے

اسرائیلی موقف یہ ہے کہ ایسے مسلح حملوں میں ملوث شدت پسند فلسطینی قیدیوں کو رہائی کے بعد جلاوطنی کی زندگی گذارنے کے لئے کسی دوسرے ملک بھیج دیا جائے۔ اخبار کے مطابق اگر حماس اور اسرائیل قیدیوں کے تبادلے کے کسی طریقہء کار پر متفق ہو گئے، تو پھر ایک ہزار فلسطینی قیدیوں کی رہائی سے متعلق ایک باقاعدہ قانونی مسودہ پارلیمان میں پیش کر دیا جائے گا۔

اسرائیل ماضی میں بھی کئی مرتبہ اپنے فلسطینیوں کی طرف سے یرغمالی بنائے گئے فوجیوں کی رہائی یا ہلاک شدہ فوجیوں کی جسمانی باقیات کے بدلے میں بہت سے فلسطینی قیدی رہا کر چکا ہے۔

رواں برس اکتوبر ميں پہلی مرتبہ حماس نے اپنے زیر قبضہ گیلاد شالت کی ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی۔ اس ویڈیو میں تئیس سالہ شالت یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ وہ "جسمانی طور پر صحت مند ہیں۔" اس ویڈیو میں شالت نے یہ بھی کہا تھا کہ القاسم مجاہدین نامی گروپ کے جن ارکان نے انہیں یرغمال بنا رکھا ہے، ان کا شالت کے ساتھ رویہ بہت مناسب ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: مقبول ملک

DW.COM