1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیلی فوجی دَستے پھر سے غزہ پٹی میں

غزہ پٹی سے اپنے انخلاء کے آٹھ مہینے بعد اپنے ایک 19 سالہ یرغمالی فوجی کو رہا کروانے کے لئے اسرائیلی فوجی دَستوں نے آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ وزیرِ اعظم Ehud Olmert نے کہا ہے کہ اپنے فوجی کی رہائی کے لئے اسرائیل ہر انتہائی اقدام کے لئے تیار ہے۔

default

غزہ سٹی سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اسرائیلی فوجی دَستوں نے اپنے ایک فوجی کو رہا کروانے کے لئے غزہ سٹی کے نزدیک فائرنگ شروع کر دی ہے۔ ہزاروں اسرائیلی فوجیوں نے ٹینکوں اور ہیلی کاپٹروں کی مدد سے جنوبی غزہ کے شہر رفاہ کے نواح میں ایک اڈہ قائم کر لیا ہے۔

اسرائیلی سربراہِ حکومت ایہود اولمرٹ نے کہا ہے کہ اتوار کے روز فلسطینی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے 19 سالہ فوجی کی رہائی کے لئے اُن کی حکومت ہر انتہائی قدم اُٹھانے کے لئے تیار ہے۔ تاہم اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل غزہ پٹی پر دوبارہ قابض ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا، ہاں یہ آپریشن کئی روز تک جاری رہ سکتا ہے۔

حماس کے زیرِ قیادت حکومت نے اِس فوجی کے بدلے میں اسرائیلی جیلوں سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی تجویز پیش کی ہے۔ ایک انتہا پسند فلسطینی گروپ نے اسرائیلی فوجی کارروائی پر ردعمل کے طور پر اغوا شُدہ فوجی کو ہلاک کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔ اِسی دوران پتہ چلا ہے کہ غالباً الاقصےٰ بریگیڈ نے ایک تیسرے اسرائیلی کو اغوا کر لیا ہے۔

اِسی دوران امریکہ اور یورپی یونین نے اسرائیل اور فلسطینیوں دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس تنازعے کو صبر و تحمل سے حل کرنے کی کوشش کریں اور اغوا کئے گئے اسرائیلیوںکی رہائی کے لئے تمام سفارتی اور سیاسی طریقے استعمال کریں۔