1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائیلی افواج کے نئے آرمی چیف نامزد

اسرائیلی حکام نے نئے آرمی چیف کے لئے میجر جنرل یوآف غالانت کو نامزد کر دیا ہے۔ ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام اور غزہ کے اسلامی جنگجوؤں کی مزاحمت کو اسرائیلی فوج کے نئے سربراہ کے لئے بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔

default

اسرائیلی وزیر دفاع اور موجودہ آرمی چیف گابی اشکنازی

اسرائیلی وزیردفاع ایہود باراک نے اتوار کو اعلان کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ حکام نے باہمی مشاورت کے بعد میجر جنرل یوآف غالانت کو ملک کا نیا آرمی چیف نامزد کر دیا ہے۔ ملک کے نئے فوجی سربراہ کے لئے حتمی فیصلہ اگرچہ کئی ہفتے بعد متوقع تھا تاہم مبینہ طور پراس سکینڈل کے منظرعام پر آنے کے بعد کہ اس اعلیٰ فوجی عہدے کے لئے لابینگ کی جا رہی ہے، نئے آرمی چیف کا اعلان پہلے ہی کر دیا گیا۔

سن 2008ء کے اواخر میں غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملے کی کمانڈ میجر جنرل غالانت کے پاس ہی تھی۔ اس مختصر جنگ کے دوران تیرہ اسرائیلی جبکہ 1,400 کے قریب فلسطینی ہلاک ہوئے تھے۔ اس جنگ کے بعد اقوام متحدہ کی طرف سے کی جانے والی آزادانہ انکوئری کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ اسرائیلی افواج کے ساتھ ساتھ حماس جنگجو بھی جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے۔

اسرائیلی مسلح افواج کے موجودہ سربراہ لیفٹیٹ جنرل Gabi Ashkenazi آئندہ برس فروری میں اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔ تاہم مقامی ذرائع ابلاغ میں نئے آرمی چیف کے حوالے سے چہ مگوئیاں قبل از وقت ہی شروع ہو گئی تھیں۔

اکاون سالہ میجرجنرل غالانت پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ انہوں نے نئے آرمی چیف بننے کے لئے مقامی میڈیا میں لابینگ کی۔ اس سکینڈل کے منظرعام پر آنے کے بعد وزیر دفاع نے فوری طور پر نئے آرمی چیف کا اعلان کر دیا۔ ایہود باراک نے کہا کہ اس مخصوص صورتحال میں فوج کے نظم ونسق کو برقرار رکھنے کے لئے آرمی چیف کے لئے نئے امید وار کا اعلان ناگزیر ہو گیا تھا۔

Benjamin Netanjahu Porträtfoto

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے وزیر دفاع کے فیصلے کی تائید کی ہے

دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ درست سمت میں کیا گیا ہے۔ اسرائیلی کابینہ متوقع طورپرآئندہ ہفتے اس فیصلے کی توثیق کردے گی۔

مبصرین کے مطابق سابق نیول کمانڈرمیجرجنرل غالانت کے پاس یہ استحقاق ہو گا کہ وہ ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام سے نمٹنے کے لئے کیا حکمت عملی اپناتے ہیں اور حماس جنگجوؤں کے علاوہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف مستقبل میں ہونے والے ممکنہ تنازعات کے لئے کیا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں واحد جوہری طاقت سمجھنے جانے والی ریاست اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کے لئے تمام راستےاستعمال کئے جا سکتے ہیں۔ اسرائیل اور مغربی ممالک کو خدشات ہیں کہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے ایٹمی ہتھیارحاصل کرنا چاہتا ہے جبکہ تہران حکومت ایسے الزامات کو ہمیشہ ہی ردّ کرتی آئی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM