1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

اسرائیلی۔فلسطینی تنازعہ: تاریخی پس منظر

غزہ پٹی کے شہریوں نے نئے سال کا سورج ایک نئے کرب میں دیکھا ہے۔ 2009 ء میں وہاں ایک نئے انسانی بحران نے جنم لیا۔

default

غزہ پر فضائی بمباری سے قبل اسرائیلی فوجی طیاروں سے لیف لیٹس گرائے جاتے ہیں جن پر شہریوں کے لئے علاقہ چھوڑنے کے پیغامات درج ہوتے ہیں

گُزشتہ دسمبر کے آخری ہفتے سے جاری غزہ پر اسرائیلی فضائی اور زمینی حملوں میں بچّوں اور خواتین سمیت اب تک سینکڑوں فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، اور جو زندہ ہیں انہیں انسانی بنیادی ضرورتوں سے جڑے بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔

غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی اور ہلاکتوں نے ہر ذی شعور شخص کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حماس کے خلاف اسرائیل کی اس جنگ میں ہر روز معصوم بچّوں کی چیخیں گونج رہی ہیں۔

Angriffe im Gazastreifen

فلسطینی طبی عملہ غزہ پر اسرائیلی گولہ باری میں زخمی ہونے والے فلسطینی بچّوں کے علاج میں مصروف

زخمیوں کی تعداد کے بارے میں ایک فلسطینی ڈاکٹر کہتے ہیں: "ہم شاید کچھ زخمیوں کی مدد تو کرسکیں، لیکن ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ہزاروں زخمیوں کی مدد کر سکیں۔"

حقائق کتنے ہی دل دہلا دینے والے کیوں نہ ہوں، غزہ پٹی کا حالیہ بحران کوئی ایسی نئی بات بھی نہیں ہے۔ یہ تو ایک ایسا تنازعہ ہے جو 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے ساتھ ہی شروع ہوگیا تھا۔

Symbolbild UNO Gaza

غزہ بحران کے حوالے سے بعض ماہرین اقوام متحدہ کی جانبداری پر سوالیہ نشان لگارہے ہیں

غزہ پر اسرائیل کی حالیہ کارروائیوں کو رکوانے اور حماس کے ساتھ فائر بندی کے لئے عالمی سطح پر کئی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ لیکن غزہ کے شہریوں کی مشکلات بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔ اس تناظر میں عالمی طاقتوں اور او آئی سی کے کردار پر ڈوئچے ویلے کے ساتھ ایک گفتگو میں پشاور یونیورسٹی میں شعبہ سیاسیات کے سابق چیئرمین اور تجزیہ نگار اے زیڈ ہلالی نے کہا کہ اس تنازعے میں اقوام متحدہ کا کردار جانبدار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسرے معاملات میں تو یہ عالمی ادارہ بہت سبک رفتاری کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اے زیڈ ہلالی کا مؤقف تھا کہ اقوام متحدہ عالمی طاقتوں کے ماتحت ہے۔ انہوں نے او آئی سی کے کردار پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا : "او آئی سی کا کردار اتنا کمزور ہے اور یہ تنظیم اس قدر بے بس ہے کہ فلسطین کا بحران تو ایک طرف، دُنیائے اسلام کو جتنے بھی مسائل درپیش ہے، ان کے حل کے لئے اس تنظیم نے قراردادیں پاس کرنے کے علاوہ کبھی کچھ نہیں کیا۔"

فلسطینی دھڑوں کے باہمی تنازعات پر بات کرتے ہوئے اے زیڈ ہلالی نے کہا کہ بیشتر فلسطینی درپردہ حماس کے ساتھ ہیں تاہم قیادت کے درمیان افہام و تفہیم نہیں، جس کا فائدہ اسرائیل کو جاتا ہے۔

غزہ پٹی کیا ہے؟

Israel greift Hamas an Freies Format

اسرائیلی حملوں کے بعد غزہ شہر کا ایک تباہ کن منظر

غزہ پٹی کا علاقہ 40 کلومیٹر طویل ہے اور اس کی چوڑھائی 10 کلومیٹر ہے۔ وہاں 14 لاکھ فلسطینی آباد ہیں۔ جن میں سے بیشتر کا تعلق ان پناہ گزین خاندانوں سے ہے جو سن 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد اسرائیلی علاقوں سے آ کر وہاں آباد ہوئے۔ اس علاقے میں سلامتی اور انسانی بحران کی مزید تفصیل:

غزہ پٹی کے بیشتر شہری آٹھ پناہ گزین کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں جہاں اقوام متحدہ صحت و تعلیم اور بنیادی ضروریات کی دیگر سہولتیں فراہم کرتی ہے۔ یہ گنجان آباد علاقہ ہے اور 20 فیصد آبادی کو نکاسی آب کی سہولت میسر نہیں۔

اسرائیل نے غزہ پٹی کے ساتھ باڑ لگا رکھی ہے، اس سرحد پر Sufa اور Karni کے مقام پر آمدورفت اور ضروری اشیا کی نقل و حرکت کی نگرانی اسرائیلی فوج کے پاس ہے۔ تاہم غزہ کا انتظام حماس کے پاس آنے کے بعد سے یہ سرحدی گزرگاہیں تقریباً بند ہی رہی ہیں جس کی وجہ سے خطّے میں بنیادی اشیائے ضروت کی زبردست قلت رہی ہے۔

Mehr als 390 Todesopfer im Gazastreifen und weitere Raketenangriffe

فلسطینی تنظیم حماس کا ایک رکن بمباری میں تباہ شدہ مسجد کے ملبے پر حماس کا پرچم لہرا رہا ہے

غزہ میں حماس کا سکہ چلتا ہے۔ تاہم دیگر عسکریت پسند گروپ اسلامی جہاد اور پاپولر ریززسٹنس کمیٹی بھی اس علاقے میں سرگرم عمل ہے۔ اسرائیل، امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا چکا ہے۔ فلسطین کی ایک جماعت الفتح ہے جس کی بنیاد فلسطین نیشنل اتھارٹی کے موجودہ صدر محمود عباس اور فلسطینی رہنما مرحوم یاسر عرفات نے 1950ء کی دہائی میں رکھی تھی۔ یہ فلسطین لبریشن فرنٹ کا ہی ایک گروہ ہے۔ یاسر عرفات 11 نومبر 2004 کو 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔

2005 میں غزہ پٹی سے اسرائیلی فوج اور آباد کاروں کے انخلا کے بعد سے عسکریت پسند وہاں سے مسلسل راکٹ حملے کرتے رہے ہیں جن میں چند ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل کی طرف سے شیلنگ اور میزائل حملوں میں غزہ میں متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اسرائیل کا مؤقف رہا ہے کہ یہ کارروائیاں اسرائیلی علاقوں پر راکٹ حملے روکنے کے لئے کی جاتی ہیں۔

یہ تنازعہ کیسے شروع ہوا؟

Kampf im Gazastreifen

غزہ کی سرحد پر اسرائیلی فوجی ٹینک پر سوار

اسرائیل اور فلسطین کا تنازعہ گزشتہ سات دہائیوں سے چلا آ رہا ہے۔ اس خطّے پر برطانیہ کی حکومت تھی۔ 1948ء میں اس کی تقسیم کے ساتھ اسرائیل کا قیام ممکن ہوا۔ یوں دُنیا بھر میں بکھرے ہوئے یہودیوں کو ایک وطن تو ملا لیکن مشرق وسطیٰ ایک طرح کے انسانی اور سیاسی بحران کی زد میں آگیا۔

اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق اسرائیل کی آبادی تقریبا 70 لاکھ ہے جبکہ فلسطینی علاقوں میں 40 لاکھ افراد آباد ہیں۔

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعے میں فلسطین لبریشن فرنٹ فلسطینیوں کی نمائندہ تنطیم رہی ہے۔ اس عرصے میں ہزاروں فلسطینی بے گھر ہو ئے جبکہ متعدد جنگیں ہوئیں جن میں کبھی مصر تو کبھی اردن اور کبھی شام تو کبھی لبنان شامل رہا ہے۔ جولائی 2006ء میں اسرائیل کی لبنان کے ساتھ جنگ بھی تباہ کن ثابت ہوئی۔ ادھر مشرقی یروشلم کے ساتھ مغربی کنارے پر فلسطینی 1967ء سے اسرائیلی تسلط میں رہے ہیں۔

Shimon Perez

اسرائیلی صدر شیمون پیریز

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن عمل کا آغاز 1990ء میں شروع ہوا۔ اسرائیل اور فلسطین لبریشن فرنٹ کے درمیان پہلا عبوری امن معاہدہ 1993ء میں اوسلو میں طے پایا۔ اسرائیل کے موجودہ صدر Shimon Peres اُس وقت وزیراعظم تھے۔ انہیں اس معاہدے میں اہم کردار ادا کرنے پر 1994 میں امن کا نوبیل انعام دیا گیا تھا۔ فلسطین کی جانب سے محمود عباس نے اس معاہدے کے حوالے سے سرگرم کردار ادا کیا تھا۔

اسرائیل نے 2005 میں غزہ پٹی سے اپنے آبادکاروں کو نکال لیا تھا، اس کے ساتھ ہی اس علاقے سے اپنی فوجیں بھی واپس بلا لی تھیں۔ یوں چار دہائیوں سے جاری تسلط کا خاتمہ ہو گیا تھا۔

فلسطین نیشنل اتھارٹی میں جنوری 2006 میں پارلیمانی انتخابات ہوئے، جن میں حماس کی فتح سے فلسطینی دھڑوں میں اختلافات پیدا ہوگئے۔ صدر محمود عباس کی جماعت فتح اور حماس کے درمیان پرتشدد کارروائیاں ہوئیں۔ فروری 2007 میں دونوں جماعتوں کےدرمیان قومی حکومت کی تشکیل کا معاہدہ ہوا۔ بعدازاں غزہ کا کنٹرول عسکریت پسند تنطیم حماس کے ہاتھ آ گیا ۔۔۔ یوں اسرائیل کے ساتھ تنازعہ اور بھی کشیدہ ہو گیا۔ اگرچہ اسرائیل غزہ اور مغربی کنارے کا کنٹرول فلسطینیوں کو دے چکا ہے تاہم آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ابھی تک ممکن نہیں ہوسکا ہے۔ اس کی راہ میں بڑی رکاوٹوں میں یروشلم کی حیثیت، فلسطینی پناہ گزینوں اور یہودی آباد کاروں کے مسائل حائل ہیں۔

آزاد فلسطین ریاست کا قیام 2008 کے آخر تک عمل میں آنا تھا۔ مشرقی یروشلم اس ریاست کا متوقع دارالحکومت ہے۔ تاہم فلسطینی تنظیموں اور اسرائیل کے مابین مصر کی ثالثی سے طے پانے والا فائر بندی کا ایک معاہدہ دسمبر میں ختم ہو گیا۔ یہ معاہدہ چھ ماہ تک قائم رہا، جس کے خاتمے پر عسکریت پسند فلسطینی تنظیم حماس کی جانب سے راکٹ حملوں کے بعد، اسرائیلی حکام نے غزہ پر چڑھائی کر دی۔ ان فضائی کارروائیوں کے پہلے چند روز میں ہی بچوں اور خواتین سمیت سینکڑوں فلسطینی ہلاک ہو گئے۔ بعدازاں اسرائیلی بری فوج بھی غزہ میں داخل ہو گئی اور لڑائی جاری ہے۔