1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائيل کے خلاف صرف غير مسلح مزاحمت: حماس ليڈر

انتہا پسند فلسطينی تنظيم حماس کے اہم ترين قائد خالد مشعل نے پچھلے دنوں کئی بار يہ کہا ہے کہ اسرائيل کے خلاف مسلح جنگ ختم کر دی جانا چاہيے۔ ممکنہ طور پر يہ مشرق وسطٰی ميں رونما ہونے والی سب سے بڑی تبديلی ہو گی۔

حماس ليڈر خالد مشعل

حماس ليڈر خالد مشعل

ايک معروف اسرائيلی روزنامے ہآريٹس نے اپنی 29 دسمبر کی اشاعت کے ایک اداريے کی سرخی يہ لگائی: ’’سنو، حماس کيا کہہ رہی ہے‘‘۔ ايک اسرائيلی اخبار کی يہ اپيل يکتا نوعيت کی ہے۔ وجہ يہ ہے کہ حماس کے پولٹ بيورو کے جلاوطن سربراہ خالد مشعل نے کئی انٹرويوز ميں اسرائيل کے خلاف مسلح جنگ کے خاتمے اور صرف عدم تشدد کی جدوجہد پر اکتفا کرنے کی اپيل کی ہے۔ غزہ کے علاقے ميں حماس کے ٹيلی وژن اسٹيشن الاقصٰی کو انٹرويو ديتے ہوئے خالد مشعل نے کہا: ’’اس وقت مزاحمت کی شکل کے بارے ميں ہمارے درميان اختلاف رائے ہے۔ اگر ميرے پاس کسی فلسطينی گروپ اور عوام کے ساتھ مل کر اقدام کرنے کا انتخاب ہو، تو ميں عدم تشدد والی عوامی مزاحمت کو منتخب کروں گا۔‘‘

غزہ کے فلسطينی علاقے کا ايک منظر

غزہ کے فلسطينی علاقے کا ايک منظر

خالد مشعل کو اب تک حماس کی قيادت کے بہت سخت گير اراکين ميں شمار کيا جاتا تھا۔ اس ليے ان کی، صرف عدم تشدد والی مزاحمت پر اکتفا کرنے کی اپيل بہت اہم ہے۔ اس کے پس منظر ميں حماس اور صدر محمود عباس کی زير قيادت تنظيم آزادیء فلسطين کے مابين مذاکرات ہيں۔ ايسا معلوم ہوتا ہے کہ مشعل اور عباس کے درميان بات چيت اب اتنی آگے بڑھ چکی ہے کہ حماس عدم تشدد کا راستہ اپنانے پر تيار ہے۔ فلسطينی صدر عباس نے حال ہی ميں يورو نيوز ٹيلی وژن پر اس کی تصديق بھی کی: ’’ايک ماہ قبل ميں نے خالد مشعل سے بات کی تھی۔ ہم نے ايک سمجھوتے کی بنياد ڈال دی ہے۔ حماس نے ان نکات سے بنيادی طور پر اتفاق کيا ہے کہ غزہ پٹی اور مغربی اردن کے علاقے ميں امن و سکون قائم رکھا جائے گا اور اس کے علاوہ اسلحے کے بغير صرف پر امن مزاحمت کی جائے گی۔‘‘

فلسطينی صدر محمود عباس

فلسطينی صدر محمود عباس

ان بنيادوں پر حماس، صدر عباس کی فتح تحریک اور دوسری پارٹياں مل کر ايک حکومت بنائيں گی اور مئی ميں غزہ اور مغربی اردن ميں اجتماعی فلسطينی انتخابات بھی ہوں گے۔ فلسطينيوں کے درميان يہی وہ قربت ہے، جس کا اسرائيل مخالف ہے۔ اسرائيل اب بھی حماس کو ايک دہشت گرد تنظيم سمجھتا ہے۔ اسرائيلی فوج کے چيف آف جنرل اسٹاف بينی گانٹس نے کہا ہے کہ وہ حماس کے زيراثر غزہ پٹی پر ايک سخت فوجی حملے ہی کو واحد راستہ سمجھتے ہيں۔ اسرائيلی اخبار ہآريٹس نے گانٹس کو ايسا کرنے سے خبردار کيا ہے اور اس جریدے ميں شائع ہونے والی آراء ميں سے ايک ميں کہا گيا ہے کہ اسرائيل کو حماس کے ليڈر خالد مشعل کے ’تاريخی بيان‘ کو نظر انداز نہيں کرنا چاہيے۔

رپورٹ: سباستيان اينگل بريشت، تل ابيب / شہاب احمد صديقی

ادارت: مقبول ملک