1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسرائيل پر ترکی کی تنقيد نمائشی۔ ايمن الظواہری

دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے نائب سربراہ ایمن الظواہری کے ايک نئے آڈیو ٹیپ ميں افغانستان کی جنگ ميں ترک فوج کے کردار پر سخت نکتہ چينی کی گئی ہے اور اسرائيل کے خلاف ترک حکومت کے بيانات کو نمائشی قرار ديا گيا ہے۔

default

القاعدہ کے نائب سربراہ ، ايک ويڈيو ٹيپ پيغام ميں

دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے نائب سربراہ ايمن الظواہری نے اسرائيل کے ساتھ ترکی کے روابط کی وجہ سے ترک حکومت کو شديد تنقيد کانشانہ بنايا ہے۔ ايک امريکی ویب مانيٹرنگ گروپ SITE کے مطابق الظواہری کے نام سے خود کو متعارف کرانے والے شخص نے اپنے 20 منٹ دورانیے کے ایک آڈيو پيغام ميں يہ بھی کہا کہ تبديلی اُس وقت آئے گی، جب ترک عوام اپنی حکومت سے کہيں گے کہ وہ اسرائيل کو تسليم کرنا بند کردے، اُس سے تعاون ختم کر دے اور مسلمانوں کو ہلاک کرنے کے لئے ترک فوج کو افغانستان بھيجنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔

يہ آڈيو پيغام انٹرنیٹ پر کئی مسلم ويب سائٹس پر بھی شائع کيا گيا ہے۔ اس پيغام ميں الظواہری نے يہ بھی کہا کہ ترک حکومت بيانات اور کچھ امدادی سامان روانہ کرنے کے ذريعے فلسطينيوں سے ہمدردی کا اظہار تو کرتی ہے ليکن درحقيقت وہ اسرائيل کو تسليم کرتی ہے، اُس کے اسرائيل کے ساتھ تجارتی روابط ہيں، وہ اسرائيل کے ساتھ فوجی تربيتی پروگراموں ميں شريک ہے اور اُس کے ساتھ خفيہ معلومات کا تبادلہ بھی کرتی ہے۔

David Petraeus NATO US Force Afghanistan

افغانستان ميں امريکی اور نيٹو افواج کے کمانڈر جنرل ڈيوڈ پيٹريس

اس ٹيپ کے اصلی ہونے کی فوری طور پر تصديق نہيں ہو سکی ہے، جس ميں الظواہری نے اپنے پيغام کا آغاز غزہ کے فلسطينيوں کے لئے امداد لے جانے والے بحری قافلے کے ترک امدادی کارکنوں کی ہلاکت پر اُن کے لواحقين اور ترک عوام کے ساتھ اظہار تعزيت سے کيا ہے۔

اسرائيلی کمانڈوز نے 31 مئی کو غزہ کی اسرائيلی ناکہ بندی توڑ کر فلسطينيوں کو امدادی سامان پہنچانے کی کوشش کرنے والے چھ بحری جہازوں کے قافلے پر حملہ کر کے نو ترک امدادی کارکنوں کو ہلاک کر ديا تھا۔ اس خونريز حملے پر اسرائيل کو شديد عالمی تنقيد کا سامنا کرنا پڑا اور اِس سے ترکی اور اسرائيل کے تعلقات بھی بہت زيادہ متاثر ہوئے ہيں۔

ايمن الظواہری نے اپنے پيغام ميں يہ بھی کہا کہ ترک حکومت غزہ کے مسلمانوں کے خلاف اسرائيل کے جرائم پر تو تنقيد کرتی ہے، ليکن وہ خود افغانستان کے مسلمانوں کے خلاف اسی قسم کے جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے۔ الظواہری نے کہا کہ ترک حکومت اور فوج دنيا کے ’صليبی جنگجوؤں کا آلہء کار‘ بنی ہوئی ہے اور افغانستان ميں ترک فوج نيٹو کی قيادت کرتے ہوئے مسلمانوں کے قتل اور اُن کے مکانات اور ديہات کو آگ لگانے ميں شريک ہے۔

Recep Tayyip Erdogan mit Sarg nach Anschlägen in Istanbul

ترک وزير اعظم ايردوآن اور استنبول کے مير استنبول ميں دہشتگردانہ حملے ميں ہلاک ہونے والے کے تابوت کو سہارا ديتے ہوئے

ترک پوليس پچھلے ہفتے دہشت گرد تنظيم القاعدہ کے ساتھ روابط کے شبے ميں 15 افراد کو گرفتار کر چکی ہے۔ نومبر سن 2003 ميں ترکی ميں دو خود کش حملوں ميں برطانوی قونصل جنرل سميت 63 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان حملوں کا الزام القاعدہ پر لگايا گيا تھا اور ان حملوں کے بعد سے ترک پوليس باقاعدگی سے القاعدہ کے حاميوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اپنے پیغام میں الظواہری نے ايران پر بھی تنقيد کی کہ وہ مبینہ طور پر افغانستان اور عراق ميں ’’صليبی جنگجوؤں کا ساتھ دے رہا ہے۔‘‘

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس