1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسد دو ہزار افراد کے قتل کے ذمہ دار ہیں، ہلیری کلنٹن

امریکی حکومت نے شام میں اپوزیشن پر کیے جانے والے حکومتی کریک ڈاؤن کے پیش نظر شامی حکومت پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔

default

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے زور دیا ہے کہ مزید ممالک شامی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپوزیشن پر جاری تشدد کے سلسلے کو بند کرے۔ ہلیری کلنٹن نے شامی صدر بشار الاسد پر تنقید کرتے ہوئے ان پر مارچ سے لے کر اب تک دو ہزار افراد کی ہلاکت کا الزام عائد کیا۔ کلنٹن نے کہا کہ شام میں ایک برس کے بچے کی حالیہ ہلاکت سے ثابت ہوتا ہے کہ شام میں صورت حال کتنی خراب ہے۔

SCHLECHTE QUALITÄT SCREENSHOT Syrien Hama Gewalt Feuer Rauch Demonstrationen

شام میں حکومتی کریک ڈاؤن جاری

شام کی انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق مارچ میں شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد سے اب تک شام میں کم از کم پندرہ سو عام شہری اور ساڑھے تین سو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا کہ بشار الاسد حکومت کرنے کا جواز کھو چکے ہیں۔ کلنٹن کے بقول ان کا ملک اتحادیوں کے ساتھ مل کر شامی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ صدر اوباما کے پریس سیکریٹری کارنے جے کے بقول صدر بشار الاسد عوام کے جائز مطالبات سننے اور ماننے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

Syrien Demonstrationen Ramadan Kerzen NO FLASH

صدر اسد کے خلاف تحریک کمزور پڑتی دکھائی نہیں دے رہی

دریں اثنا کیوبا نے سلامتی کونسل میں شامی حکومت کے خلاف مذمتی اعلامیے کو مسترد کر دیا ہے۔ کیوبا کے نائب وزیر خارجہ مارکوس روڈریگیز نے اسے شام کی آزادی اور ریاستی خودمختاری کے منافی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شام کے معاملے میں مغربی طاقتوں نے سلامتی کونسل کو استعمال کیا ہے۔ سلامتی کونسل کے دو مستقل ارکان روس اور چین کی کوششوں سے قرارداد کے بجائے اعلامیے کی منظوری عمل میں آئی۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق ان دو ممالک کو خدشہ ہے کہ قرارداد کی صورت میں لیبیا کی طرح شام میں بھی فوجی کارروائی کا راستہ کھل سکتا ہے۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM