1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

اسد حکومت کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے، حسن روحانی

ایرانی صدر حسن روحانی نے گزشتہ ہفتے شامی ائیر بیس پر  امریکی فضائی حملوں کو شامی حکومت کی خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اپنے شامی ہم منصب بشار الاسد کی حکومت کی حمایت کرنے کا اعادہ کیا ہے۔

Russland Treffen Hassan Rohani mit Putin in Moskau (Reuters/S. Karpukhin)

ایران اور روس کے صدور نے کہا ہے کہ شام میں امریکی جارحانہ اقدامات جائز نہیں ہیں

شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق حسن روحانی نے آج اتوار کے روز شامی صدر بشار الاسد کے ساتھ ٹیلیفون پر بات چیت میں جمعے کے روز شام پر ہوئے امریکی فضائی حملے کو شامی خود مختاری کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ اسد نے امریکا پر شام میں دہشت گرد گروپوں کے حوصلے بلند کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ ایران شام کی چھ سالہ خانہ جنگی کے دوران شام کو بھرپور فوجی اور اقتصادی امداد فراہم کرتا رہا ہے۔ ایرانی حکومت  نے نہ صرف تمام مشرقِ وسطی سے اسد حکومت کی حمایت میں لڑنے کے لیے کئی شیعہ ملیشیا کو منظم کیا ہے بلکہ پاسدارانِ انقلاب کے فوجیوں اور افسران کو بھی بھیجا ہے۔

 دوسری جانب  ایرانی صدر حسن روحانی نے اپنے روسی ہم منصب  روسی صدر ولادیمیر پوٹن  سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے اور دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کا اظہار کیا ہے کہ  شام میں امریکی جارحانہ اقدامات جائز نہیں ہیں اور یہ کہ  ایسی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔ کریملن نے آج بروز اتوار بتایا ہے کہ ان دونوں رہنماؤں نے شام کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور مستقبل کی حکمت عملی کو زیر بحث لائے۔ دونوں رہنماؤں نے ادلب میں کیمیائی حملے کے بارے میں آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ 

Syiren Präsident Bashar al-Assad Interview (Reuters)

امریکا کے مطابق شام میں میزائل حملے صدر بشار الاسد کی حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر شامی باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے جواب میں کیے گئے

اُدھر اقوام متحدہ کے لیے امریکی سفیر نکی ہیلی نے کہا ہے کہ مشتبہ کیمیائی حملے کے بعد شامی صدر بشار الاسد مزید اقتدار میں نہیں رہ سکتے ہیں۔  ہیلی کے بقول اسد کی موجودگی میں شام میں قیام امن ممکن نہیں ہے۔گزشتہ ہفتے باغیوں کے زیرقبضہ علاقے خان شیخون میں کیے گئے اس کیمیائی حملے کے نتیجے میں ستاسی افراد مارے گئے تھے، جن میں متعدد بچے بھی شامل تھے۔ واشنگٹن نے اس کارروائی کے لیے شامی حکومت کو قصوروار قرار دیا ہے جبکہ جوابی کارروائی کے طور پر اس چھ سالہ خانہ جنگی میں پہلی بار براہ راست ایک شامی ایئر بیس پر میزائل بھی داغے ہیں۔ ہیلی کے بقول اسد کی موجودگی میں شام میں قیام امن ممکن نہیں ہے۔

امریکی حکومت کا موقف ہے کہ شام میں میزائل حملے شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر شامی باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے جواب میں کیے گئے تاہم دمشق حکومت نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔

DW.COM