1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’اسد حکومت بہت سی حدیں پار کر گئی‘: ٹرمپ کی شام کو دھمکی

شامی صوبے ادلب میں زہریلی گیس کے حالیہ ہلاکت خیز استعمال کے حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ دمشق میں اسد حکومت ’بہت سی حدیں پار کر گئی ہے‘۔ امریکا نے دھمکی دی ہے کہ وہ شام کے خلاف یکطرفہ اقدامات بھی کر سکتا ہے۔

واشنگٹن سے بدھ پانچ اپریل کی رات ملنے والی مختلف نیوز ایجنسیوں کی رپورٹوں کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ خانہ جنگی کے شکار ملک شام کے صوبے ادلب میں مبینہ طور پر حکومتی فورسز کی طرف سے شہریوں کے خلاف زہریلی گیس کا جو استعمال کیا گیا، اس کا مطلب یہ ہے کہ ’دمشق حکومت بہت سی حدیں پار کر گئی ہے‘۔

منگل چار اپریل کو کیے جانے والے اس حملے میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے تھے، جن میں خواتین اور بہت سے بچے بھی شامل تھے۔ اس حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کی شامی صدر ’بشار الاسد کے بارے میں سوچ بالکل بدل گئی ہے‘۔

شام میں ’زہریلی گیس‘ کا حملہ، کم از کم اٹھاون ہلاک

حلب کے بعد ادلب شامی فوجی آپریشن کا اگلا نشانہ ہو سکتا ہے

مشتبہ روسی فضائی حملے، ادلب میں چھیالیس ہلاکتیں

ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ادلب میں کیا جانے والا حملہ انتہائی خوفناک اور قابل مذمت ہے اور ’انسانیت کے خلاف اسد حکومت کی ان زیادتیوں کو برداشت نہیں‘ کیا جا سکتا۔ اس موقع پر امریکی صدر نے یہ اشارہ بھی دیا کہ اگر اقوام متحدہ نے اس سلسلے میں شامی حکومت کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی، تو امریکا ممکنہ طور پر اکیلے ہی اسد حکومت کے خلاف اقدامات کر سکتا ہے۔

اسی دوران بدھ پانچ اپریل کی شام نیو یارک میں شام میں اسی زہریلی گیس حملے کے بارے میں ہونے والے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس کا کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔

Syrien Idlib Giftgas Angriff (picture alliance/dpa/M.Karkas)

ادلب میں اس کیمیائی حملے میں گیارہ خواتین اور انیس بچوں سمیت کم از کم اٹھاون افراد ہلاک ہوئے

اس سلسلے میں ایک مسودہ قرارداد مشترکہ طور پر امریکا، فرانس اور برطانیہ کی طرف سے پیش کیا گیا تھا، جس پر رائے شماری نہ ہو سکی۔ اس حوالے سے سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک میں سے ایک اور دمشق میں اسد حکومت کے قریبی اتحادی روس نے ماضی کی طرح اس قرارداد کا راستہ روک دیا۔ ماسکو ماضی میں شام سے متعلق کئی مذمتی قراردادوں کو ویٹو کر چکا ہے۔

عالمی سلامتی کونسل کے اسی اجلاس میں امریکی سفیر نِکی ہیلی نے واضح کر دیا کہ اگر شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے اس حملے کو عالمی برادری نے کوئی جواب نہ دیا تو واشنگٹن اکیلا بھی دمشق کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔

اس اجلاس میں روس نے تین مغربی ملکوں کی طرف سے شام کے خلاف پیش کردہ قرارداد کے مسودے کو ’قطعی طور پر ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

DW.COM