1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’اسد‘ امریکا اور روسی تعلقات میں ہڈی بن گئے

امریکا اور روس کے باہمی روابط شام میں زہریلی گیس کے حملے کے بعد سے تناؤ کا شکار ہیں۔ آج روسی صدر پوٹن نے اپنے امریکی ہم منصب پر تنقید کی جبکہ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ پوٹن کیسے اسد کی حمایت کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوٹن کو شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ٹرمپ نے شامی صدر کو ’جانور‘ کہا ہے۔ ٹرمپ کے بقول، ’’سچ کہوں، پوٹن ایک ایسے شخص کی پشت پناہی کر رہے ہیں، جو اصل میں ایک شیطان ہے اور وہ اس دنیا کے لیے بہت برا ہے‘‘۔

یہ بات انہوں نے فوکس نیوز چینل سے باتیں کرتی ہوئی کہی۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب ان کے وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن بات چیت کے لیے ماسکو میں ہیں۔ ٹلرسن اپنے روسی ہم منصب سیرگئی لاوروف سے ملاقات کر چکے ہیں۔

Syrien Idlib Giftgasangriff

امریکا اور روس کے باہمی روابط شام میں زہریلی گیس کے حملے کے بعد سے تناؤ کا شکار ہی

کریملن کے ترجمان نے بتایا ہے کہ روسی صدر ولادی میر پوٹن اور ٹلرسن کی بات چیت ابھی جاری ہے۔ اس ملاقات کے ایجنڈے کے بارے میں تو کچھ بھی نہیں بتایا گیا تاہم یہ واضح ہے کے اس دوران شام کا موضوع لازمی طور پر زیر بحث آئے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے روس پر یہ تنقید شام کی جانب سے شہریوں پر زہریلی گیس، بیرل بم اور اسی طرح کے دیگر حملوں کے تناظر میں کی، ’’بالکل غیر جانبداری سے بات کی جائے تو آپ کو بار بار ایسے بچے دکھائی دیتے ہیں، جن کے نہ تو ہاتھ ہوتے ہیں، نہ پیر اور ان کے چہرے بھی مسخ ہو چکے ہوتے ہیں، یہ جانوروں جیسا رویہ ہے‘‘

دوسری جانب روسی صدر ولادی میر پوٹن نے بھی اپنے امریکی ہم منصب کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پوٹن نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے امریکی صدر بننے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہی ہوئے ہیں۔ پوٹن کے بقول یہ کہا جا سکتا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین اعتماد کا فقدان بڑھا ہے اور خاص طور پر عسکری شعبے میں تعلقات تنزلی کا شکار ہوئے ہیں۔